***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > عاریت کا بیان

Share |
سرخی : f 1464    بغرض مطالعہ لائبریری سے لی گئی کتابوں پر لکھنا ؟
مقام : انڈیا,
نام : جاوید اکرم
سوال:    

سنٹرل لائبریری میں کتابوں کے مطالعہ کے ساتھ یہ سہولت بھی دی جاتی ہے کہ خواہشمند حضرات کسی کتاب کو مطالعہ کے لئے لے جاسکتے ہیں ، مطالعہ کے بعد لائبریری کو کتاب واپس کرنا ہوتا ہے ، کتابیں لینے کے لئے ممبر بننا ضروری ہے ، میں بھی سنٹرل لائبریری کا ممبر ہوں ، بہت سی اردو کتابیں بطورِ خاص اردو زبان وادب اور شعر وشاعری کی کتابیں لیتا ہوں ، دوسری کتابوں کو بھی دیکھنے کا موقع ملتا ہے ، بعض ممبران جو اپنے پاس لائبریری کی کتابیں رکھتے ہیں ، کتابوں پر اپنا نام لکھتے ہیں یا دستخط کرتے ہیں ، یا کوئی اچھا شعر جو اُنہیں پسند ہو ‘ لکھ دیتے ہیں ، کیا اس طرح کتابوں پر لکھنا درست ہے ؟


............................................................................
جواب:    

سنٹرل لائبریری اپنے ممبران کو جو کتابیں مطالعہ کے لئے دیتی ہے وہ عاریت کے طور پر ہے ، ظاہر ہے ممبران اس کے مالک نہیں ہوتے ، عاریت کا حکم یہ ہے کہ اس میں ایسا تصرف ہی درست ہے جس کی عاریت کے لئے دینے والے کی طرف سے اجازت ہو اور عمومی طور پر مطالعہ کی خاطر دی گئی کتابوں پر لکھنے کی اجازت نہیں دی جاتی ، لہذا لائبریری سے عاریتاً لی گئی کتابوں پر نام یا شعر لکھنا یادستخط ثبت کرنا ازروئے شریعت ممنوع ہے ۔

        الجوھرۃ النیرۃ میں ہے : رجل استعار کتابا لیقرأ فیہ فوجد فیہ خطأ ان علم ان صاحب الکتاب یکرہ اصلاحہ ینبغی ان لایصلحہ لانہ تصرف فی ملک الغیر بغیر اذنہ وان یعلم انہ لایکرہ اصلاحہ جاز لانہ مأذون لہ دلالۃ ولو لم یفعل لا اثم علیہ لان الاصلاح غیر واجب علیہ ۔ (الجوھرۃ النیرۃ ، کتاب العاریۃ ، مسائل فی العاریۃ)

واللہ اعلم بالصواب ۔ 
سیدضیاءالدین عفی عنہ ، 
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، 
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com 
حیدرآباد دکن۔
 

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com