***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1465    مدینہ طیبہ سے روانگی کے آداب
مقام : فلک نما، حیدرآباد,
نام : سید احمد علی نقشبندی
سوال:    

میں اس سال اہلیہ کے ساتھ حج کے لئے جارہاہوں ، پہلے ہم مدینہ طیبہ جارہے ہیں ، پھر مدینہ طیبہ سے احرام باندھکر مکہ مکرمہ جائیں گے ، مدینہ طیبہ میں قیام کے بعد جب ہم مکہ مکرمہ کے لئے روانہ ہورہے ہوں ، اس موقع پر ہمیں کن چیزوں کو ملحوظ رکھنا چاہئے ؟


............................................................................
جواب:    

جب تک آپ مدینہ طیبہ میں قیام پذیر ہوں ، وہاں کی حاضری کو نعمت عظمی اور سعادت کبری جانیں ‘ اور مدینہ طیبہ سے روانہ ہونے کا وقت ہوتو آپ کے لئے مستحب ہے کہ مسجد نبوی شریف علی صاحبہ الصلوٰۃ والسلام میں دو رکعات نفل ادا کریں ، جبکہ نماز فجرکے بعد یا نماز عصر کے بعد کا وقت نہ ہو ، نماز کے بعد دعاکریں ‘ پھر حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روضۂ اطہر کے پاس حاضر ہوں اور باادب سلام پیش کریں ، اپنی ذات کے لئے ‘والدین ‘ بھائی ‘بہن ‘ اہل وعیال ‘مال ومنال اور دیگر حضرات کے حق میں دعاء خیر کریں ، یہ دعاکریں کہ اللہ تعالی نعمتوں سے سرفراز فرماکرباسلامت اہل وعیال تک پہنچائے ، دنیاوآخرت کی بلاؤں سے عافیت عطا فرمائے ‘اور یہ دعاکریں کہ اللہ تعالی آپ کو حرمین شریفین دوبارہ عافیت کے ساتھ لوٹائے اور نماز کے بعد ریاض الجنۃ میں اور روضۂ اطہر کے پاس یہ دعائیں کثرت سے کریں ، کوشش کریں کہ آنسو نکلیں ؛کیونکہ یہ قبولیت کی علامتوں سے ہے ، روانگی کے وقت صدقہ وخیرات کریں اور روتے ہوئے ‘بارگاہ اقدس اور دیارمقدسہ سے وطن واپسی پرحسرت کااظہار کرتے ہوئے اور جدائی کے غم کا احساس کرتے ہوئے روانہ ہوں۔ علامہ ابن ھمام نے فتح القدیر ، کتاب الحج ، مسائل منثورۃ میں رقم فرمایاہے :وإذا عزم علی الرجوع إلی أہلہ یستحب لہ أن یودع المسجد بصلاۃ ویدعو بعدہا بما أحب ، وأن یأتی القبر الکریم فیسلم ویدعو بما أحب لہ ولوالدیہ وإخوانہ وأولادہ وأہلہ ومالہ ، ویسأل اللہ تعالی أن یوصلہ إلی أہلہ سالما غانما فی عافیۃ من بلیات الدنیا والآخرۃ ویقول غیر مودع یا رسول اللہ ، ویسأل إن شاء اللہ تعالی أن یردہ إلی حرمہ وحرم نبیہ فی عافیۃ . ولیکثر دعاء ہ بذلک فی الروضۃ الشریفۃ عقیب الصلوات وعند القبر ، ویجتہد فی خروج الدمع فإنہ من أمارات القبول ، وینبغی أن یتصدق بشیء علی جیران النبی صلی اللہ علیہ وسلم ثم ینصرف متباکیا متحسرا علی فراق الحضرۃ الشریفۃ النبویۃ والقرب منہا . واللہ اعلم بالصواب– سیدضیاءالدین عفی عنہ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر۔ حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com