***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1466    احرام میں ناخن تراشنے کی ممانعت
مقام : توپ خانہ،حیدرآباد،انڈیا,
نام : کریم الدین
سوال:    

میں اس سال حج کےلئے جارہا ہوں ، میں نے حج سے متعلق ایک کتابچہ میں پڑھا اور تربیتی کیمپ میں سنا کہ احرام کی حالت میں ناخن نہیں کترنا چاہئیے ، میرا سوال یہ ہےکہ اگر کوئی شخص احرام میں ناخن کترلے یا ٹوٹے ہوئے ناخن کو مکمل کترکر علحدہ کردے توایسے شخص کےلئے کیا حکم ہے؟


............................................................................
جواب:    

: احرام باندھنے کے بعد محرم پر جو امور حرام ہوجاتے ہیں ان میں ناخن تراشنا ہے ۔ آدمی اگر حالت احرام میں ہاتھ پیر کے تمام ناخن ایک ہی مجلس میں تراش لے یا کسی ایک ہاتھ یا ایک پیر کے پانچ ناخن ایک ہی مجلس میں تراشے تو اس پر ایک دم واجب ہے، اور اگر ایک ہاتھ یا پیر کے پانچ ناخن ایک ہی مجلس میں اور دوسرے ہاتھ یا پیر کے دوسری مجلس میں کاٹے تو دو دم واجب ہیں اور دونوں ہاتھ اور دونوں پیروں کے جملہ ناخن چار مجلسوں میں کاٹے تو چار دم لازم ہیں - اگر پانچ سے کم ناخن تراشے توہر ناخن پر آدھا صاع یعنی تقریبا ً سوا کلو گیہوں یا اسکی قیمت صدقہ کرنا ضروری ہے- اور اگر چاروں ہاتھ پیر کے چار چار ناخن کترے تو سولہ صدقے واجب ہیں البتہ ان صدقوں کی قیمت ایک دم کے مساوی ہوجائے تو کچھ کم کرکے دیں - جہاں تک ٹوٹے ہوئے ناخن کو علحدہ کرنے کا سوال ہے تواس کا حکم یہ ہے کہ ناخن اس طرح ٹوٹ جائے کہ ا ب اس کی مزید نشونما نہیں ہوگی تواسکو توڑکر علحدہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔عالمگیری ،ج1، ص244، میں ہے : وَلَيْسَ لِلْمُحْرِمِ أَنْ يَقُصَّ أَظْفَارَهُ فَإِذَا قَصَّ أَظَافِيرَ يَدٍ وَاحِدَةٍ أَوْ رِجْلٍ وَاحِدَةٍ عَنْ غَيْرِ ضَرُورَةٍ فَعَلَيْهِ دَمٌ وَكَذَلِكَ إذَا قَلَّمَ أَظَافِيرَ يَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ يَكْفِيهِ دَمٌ وَاحِدٌ . وَلَوْ قَلَّمَ ثَلَاثَةَ أَظَافِيرَ مِنْ يَدٍ وَاحِدَةٍ أَوْ رِجْلٍ وَاحِدَةٍ تَجِبُ عَلَيْهِ الصَّدَقَةُ وَلِكُلِّ ظُفْرٍ نِصْفُ صَاعٍ مِنْ حِنْطَةٍ إلَّا أَنْ يَبْلُغَ ذَلِكَ دَمًا فَيَنْقُصُ مَا شَاءَ وَلَوْ قَلَّمَ خَمْسَةَ أَظَافِيرَ مِنْ يَدٍ وَاحِدَةٍ وَلَمْ يُكَفِّرْ ثُمَّ قَلَّمَ أَظَافِيرَ يَدِهِ الْأُخْرَى إنْ كَانَ فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ فَعَلَيْهِ دَمٌ ، وَإِنْ كَانَ فِي مَجْلِسَيْنِ فَيَلْزَمُهُ دَمَانِ .۔۔۔۔۔۔ وَلَوْ قَلَّمَ خَمْسَةَ أَظَافِيرَ مِنْ الْأَعْضَاءِ الْأَرْبَعَةِ الْمُتَفَرِّقَةِ تَجِبُ الصَّدَقَةُ لِكُلِّ ظُفْرٍ نِصْفُ صَاعٍ فِي قَوْلِ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ - رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى - . وَكَذَلِكَ لَوْ قَلَّمَ مِنْ كُلِّ عُضْوٍ مِنْ الْأَعْضَاءِ الْأَرْبَعَةِ أَرْبَعَةَ أَظَافِيرَ تَجِبُ عَلَيْهِ الصَّدَقَةُ ، وَإِنْ كَانَ جُمْلَتُهَا سِتَّةَ عَشَرَ فِي كُلِّ ظُفْرٍ نِصْفُ صَاعٍ مِنْ حِنْطَةٍ إلَّا إذَا بَلَغَتْ قِيمَةُ الطَّعَامِ دَمًا فَيَنْقُصُ مِنْهُ مَا شَاءَ كَذَا فِي شَرْحِ الطَّحَاوِيِّ -انْكَسَرَ ظُفْرُ الْمُحْرِمِ وَتَعَلَّقَ فَأَخَذَهُ فَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ كَذَا فِي الْكَافِي . واللہ اعلم بالصواب- سید ضیاء الدین ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ –

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com