***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1481    بیوی کی رہائش میں ساس کی دخل اندازی
مقام : بنگلور ، انڈیا,
نام : نام غیر مذکور
سوال:    

میں ایک شادی شدہ لڑکی ہوں ، تین سال پہلے میری شادی ہوئی ، میں نے تین سال سسرال میں شوہر کے ساتھ بسر کئے ، جو اپنے ماں باپ اور بہن کے ساتھ رہتے ہیں ، پچھلے تین سالوں کے دوران میں نے بہت کچھ برداشت کیا ؛ حالانکہ میرا رویہ اُن لوگوں کے ساتھ بالکل ٹھیک تھا ، میں مکمل نرمی سے برتاؤ کرتی رہی ، مجھے اس گھر میں اپنی مرضی سے میری ہی چیزیں کپڑے ، زیور، چپل وغیرہ پہننے کا اختیار تک نہیں ، کھانے پینے کے معاملہ میں بھی میرے ساتھ جانبدارانہ سلوک ہوتا تھا ، اگر میں کسی وقت گھر کے باہر جاؤں تو کمرے اور الماری کی کنجیاں میری ساس کو دینا ضروری تھا اور بہت سی ایسی باتیں ہیں جس سے میں اپنے آپ کو قیدی یا نوکرانی تصور کرتی تھی ، مجھے تین سال کے دوران کبھی یہ احساس نہیں ہوا کہ میں بھی اس گھر کی ایک ممبر ہوں ۔

 

        ان تمام چیزوں سے تنگ آکر میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں اپنے ماں باپ کے گھر میں رہوں اور میں سسرال سے یہاں میکہ آچکی ہوں ، کیا میں اپنے ماں باپ کے گھر آنے کی وجہ سے شوہر کی نافرمانی کررہی ہوں یا نہیں ؟ اس جواب کا انتظار کروں گی۔


............................................................................
جواب:    

بیوی کا نفقہ شوہر کے ذمہ واجب ہے ، جس میں بیوی کی خوراک وپوشاک کے ساتھ رہائش بھی داخل ہے ، جیساکہ ارشاد الہی ہے ، اَسْکِنُوْهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَکَنْتُمْ مِّنْ وُجْدِکُمْ۔ ترجمہ : اُن (خواتین) کو اپنی طاقت کے مطابق وہاں رہائش دو جہاں تم رہتے ہو۔ (سورۃ الطلاق : 6)

        فقہاء کرام نے رہائش کے سلسلہ میں صراحت کی ہے کہ بیوی کی رہائش کے لئے ایسا کمرہ فراہم کیا جائے جس میں دوسروں کی شراکت نہ ہو اور اُسے مقفل کرنے کی سہولت ہو تاکہ وہ اپنے سامان سے متعلق مطمئن رہے ، اگر بیوی کے لئے فراہم کردہ رہائشی کمرہ میں کسی کی شراکت ہو یا کمرہ کو مقفل کرنے کی سہولت مہیّا نہ ہو تو ایسی صورت میں بیوی کو حق حاصل ہے کہ وہ شوہر کے ساتھ رہنے سے منع کردے۔

        آپ نے سوال میں جو تفصیل ذکر کی ہے اگر حقیقی صورتحال یہی ہے تو آپ کا اپنے والدین کے گھر میں رہنا شوہر کی نافرمانی میں داخل نہیں، لیکن آپ کا میکہ آجانا مسئلہ کا حل نہیں ، آپ شوہر کے ساتھ رہتے ہوئے اپنے حقوق حاصل کرسکتی ہیں ، آپ کے شوہر کی ذمہ داری ہے کہ آپ کے لئے رہائش کا مناسب انتظام کرے ، اس میں کسی کی شراکت نہ ہو ، کوئی اورآپ کی رہائش ، سازوسامان میں دخل انداز نہ ہو اور آپ کی ساس ودیگر سسرالی رشتہ داروں کو چاہئے کہ کسی قسم کا غیر جانبدارانہ سلوک نہ کریںاور ہر ایک دوسرے کے ساتھ بہتر برتاؤ کرے۔

        جیساکہ درمختار میں ہے : ( وکذا تجب لها السکني في بيت خال عن أهله ) سوی طفله الذي لا يفهم الجماع وأمته وأم ولده ( وأهلها ) ولو ولدها من غيره ( بقدر حالهما ) کطعام وکسوة وبيت منفرد من دار له غلق۔(درمختار، کتاب الطلاق ، باب النفقۃ ، مطلب فی مسکن الزوجۃ)

        اور رد المحتار میں ہے :( قوله خال عن أهله إلخ ) ؛ لأنه ا تتضرر بمشاركة غيرها فيه ؛ لأنها لا تأمن علي متاعها ويمنعها ذلک من المعاشرة مع زوجها ومن الاستمتاع إلا أن تختار ذلک ؛ لأنها رضيت بانتقاص حقها هداية۔(ردالمحتار، کتاب الطلاق ، باب النفقۃ ، مطلب فی مسکن الزوجۃ)

واللہ اعلم بالصواب

سیدضیاءالدین عفی عنہ

شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ

بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر

حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com