***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1482    وصیت کالعدم کرنے کا حق
مقام : سنگاپور,
نام : محمد لطیف الرحمن
سوال:    

میرے دوست کے ایک کرم فرما صاحب نے اُن کے حق میں ایک فلیٹ کی وصیت کی جسے اُنہوں نے تحریری شکل دے رکھی ، اور اُن سے زبانی کئی مرتبہ ذکر کیا ، جب یہ بات اُن کے لڑکوں کو معلوم ہوئی جو شادی شدہ ہیں تو اُنہوں نے اپنے لڑکوں کو سمجھانے کی کوشش کی ، جب وہ ماننے کے لئے تیار نہ ہوئے تو اُنہوں نے میرے دوست سے معافی چاہی اور وصیت کو کالعدم قرار دیا ، مجھے یہ پوچھنا ہے کہ وصیت تحریر کرچکنے کے بعد وہ صحیح ہوچکی اور صحیح ہونے کے بعد کیا اُس کو کالعدم کیا جاسکتا ہے ؟ شریعت میں ہمارے لئے کیا رہنمائی ملتی ہے ؟ بیان فرمادیں تو بڑی مہربانی ہوگی ۔


............................................................................
جواب:    

اگر کوئی شخص کسی غیر وارث کے حق میں وصیت کرتاہے تو وہ کل مال کے ایک تہائی حصہ میں شرعاً درست قرار پاتی ہے ، تاہم وصیت کرنے والے کو ازروئے شریعت یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ وصیت سے رجوع کرلے ، سوال میں درج تفصیل کے مطابق جب وہ صاحب نے آپ کے دوست کو ایک فلیٹ وصیت کی تو اس میں حکم شریعت یہ ہے کہ اگر وہ فلیٹ اُن کے کل مال کے ایک تہائی حصہ میں ہوتو وصیت درست قرار پائی اور اگر فلیٹ کل مال کے ایک تہائی حصہ سے زائد ہو تو صرف ایک تہائی تک وصیت درست ہوگئی اور فلیٹ کا بقیہ حصہ ورثہ کا حق ہوا، پھر جب اُنہوں نے وصیت سے رجوع کرتے ہوئے اُسے ناقابل اعتبار قرار دیا تو وصیت باطل ہوگئی ۔

         جیساکہ ہدایہ ، کتاب الوصایا میں مذکور ہے:(ویجوز للموصی الرجوع عن الوصیۃ) لانہ تبرع لم یتم فجاز الرجوع عنہ کالھبۃ ۔۔۔ ولان القبول یتوقف علی الموت والایجاب یصح ابطالہ قبل القبول کما فی البیع۔(واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ،شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com