***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1483    جسم کو جلاکر داغنا
مقام : چننائی,
نام : زین الدین
سوال:    

مفتی صاحب !میرے ایک دوست کسی مرض میں مبتلا ہیں اور وہ بے حد پریشان ہیں ، وہ علاج کے لئے بہت سے ڈاکٹروں سے رجوع ہوئے لیکن صحتیابی نہیں ہورہی ہے، ایک ڈاکٹر نے کہا کہ اس کا علاج کرنے کے لئے جلا کر داغنے کا عمل اختیار کرنا پڑے گا ،میرا سوال یہ ہے کہ جسم کو جلاکر داغنا کیسا ہے ؟ شرعی حکم سے آگاہ فرمائیں ۔


............................................................................
جواب:    

جسم کو جلاکر داغنا نقصاندہ ہے اور اپنے آپ کو نقصان پہنچانا شرعًا جائز نہیں ، البتہ بطور علاج جسم کو داغ دینے سے متعلق مختلف روایتیں ہیں ، بعض روایتوں میں ممانعت اور بعض میں اجازت ہے ، علماء امت نے داغ دینے سے متعلق وارد روایتوں کے درمیان تطبیق دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ لوگ شفاء کے لئے داغ دینے کو سبب حقیقی مانتے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ اس کے علاوہ کسی اور طرح سے بیماری دور نہیں ہوتی، لہذا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح داغنے سے منع فرمادیا ، اللہ تعالی کو حقیقت میں شفاء دینے والا اور داغنے کو ذریعۂ علاج مانتے ہوئے داغ دینے کی اجازت عطا فرمائی ۔

         علاج کے دیگر طریقوں سے شفاء نہ ہونے کی صورت میں ’’ داغنے ‘‘ کے ذریعہ علاج کرنے کی شرعًا اجازت ہے ،چنانچہ المقاصد الحسنۃ میں حدیث پاک ہے :اٰخر الدواء الکي۔ ترجمہ : دوا کا آخری طریقہ داغنا ہے ۔ (المقاصد الحسنۃ للسخاوی ، حرف الھمزۃ)مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح میں ہے :قال الخطابی الکی داخل فی جملۃ العلاج والتداوی المأذون فیہ والنهی عن الکي یحتمل أن یکون من أجل أنهم کانوا یعظمون أمره ویرون أنه یحسم الداء ویبرئه وإذا لم یفعل هلک صاحبه ویقولون آخر الدواء الکي فنهاهم النبي عن ذلک علي هذا الوجه وأباح استعماله علي معني طلب الشفاء والترجی للبرء بما یحدث الله من صنعه فیه فبکون الکي والدواء سببا لا علۃ قال الطیبي ویؤیده تخصیص ذکر الأمة أي أنا أنهاهم لئلا یعدو الکي علة مستقلة.(مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، کتاب الطب والرقی )

         اور رد المحتار میں ہے :ولا بأس بکی الصبیان لداء إتقانی۔(ردالمحتار ، فصل فی البیع ، کتاب الحظر والاباحۃ)

واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com