***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1489    امام حسین رضی اللہ عنہ کا پشت مبارک پر سوار ہونا
مقام : کشمیر,
نام : سردار عبد اللہ
سوال:    

اکثر خطیب حضرات سے یہ روایت سننے میں آتی ہے کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نمازادافرمارہے تھے کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ آپ کی پشت مبارک پر سوار ہوگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کودراز فرمادیالیکن اس کا حوالہ ذکر نہیں کیا جاتا ، کیا واقعۃً یہ روایت موجود ہے؟ برائے مہربانی اس کامتن اور حوالہ ذکر فرمائیں۔


............................................................................
جواب:    

جس روایت کے متعلق آپ نے سوال کیا ہے وہ روایت سنن نسائی، مسند امام أحمد، مصنف ابن أبی شیبۃ، مستدرک علی الصحیحین، معجم کبیرطبرانی، مجمع الزوائد، سنن الکبری للبیہقی، سنن کبری للنسائی، المطالب العالیۃ ، مسند أبی یعلی اور کنز العمال وغیرہ میں موجود ہے،مندرجہ ذیل روایت سنن نسائی کے الفاظ میں ذکر کی جاتی ہے: عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ شَدَّادٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی إِحْدَی صَلَاتَیْ الْعِشَاءِ وَہُوَ حَامِلٌ حَسَنًا أَوْ حُسَیْنًا فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَوَضَعَہُ ثُمَّ کَبَّرَ لِلصَّلَاۃِ فَصَلَّی فَسَجَدَ بَیْنَ ظَہْرَانَیْ صَلَاتِہِ سَجْدَۃً أَطَالَہَا قَالَ أَبِی فَرَفَعْتُ رَأْسِی وَإِذَا الصَّبِیُّ عَلَی ظَہْرِ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ سَاجِدٌ فَرَجَعْتُ إِلَی سُجُودِی فَلَمَّا قَضَی رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الصَّلَاۃَ قَالَ النَّاسُ یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّکَ سَجَدْتَ بَیْنَ ظَہْرَانَیْ صَلَاتِکَ سَجْدَۃً أَطَلْتَہَا حَتَّی ظَنَنَّا أَنَّہُ قَدْ حَدَثَ أَمْرٌ أَوْ أَنَّہُ یُوحَی إِلَیْکَ قَالَ کُلُّ ذَلِکَ لَمْ یَکُنْ وَلَکِنَّ ابْنِی ارْتَحَلَنِی فَکَرِہْتُ أَنْ أُعَجِّلَہُ حَتَّی یَقْضِیَ حَاجَتَہ۔ ترجمہ:حضرت عبد اللہ بن شداد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ،انہوں نے فرمایاکہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نمازکیلئے ہمارے پاس تشریف لائے،اس حال میں کہ آپ حضرت حسن یا حضرت حسین رضی اللہ عنھما کواٹھائے ہوئے تھے ،حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگے تشریف لے گئے اور انہیں بٹھادیا،پھرآپ نے نمازکیلئے تکبیرفرمائی اور نمازادافرمانے لگے ،دوران نماز آپ نے طویل سجدہ فرمایا، میرے والد کہتے ہیں :میں نے سر اٹھاکر دیکھا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں ہیں اور شہزادے رضی اللہ عنہ آپ کی پشت انور پر ہیں، تو میں پھر سجدہ میں چلاگیا، جب حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمازسے فارغ ہوئے تو صحابہ کرام نے عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ نے نمازمیں سجدہ اتنا دراز فرمایا کہ ہمیں اندیشہ ہوا کہ کہیں کوئی واقعہ پیش تو نہیں آیا، یا آپ پروحی الہی کا نزول ہورہا ہے ؟حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :اس طرح کی کوئی بات نہیں ہوئی سوائے یہ کہ میرا بیٹا مجھ پرسوار ہوگیا تھا،اور جب تک وہ اپنی خواہش سے نہ اترتے مجھے عجلت کرنا ناپسند ہوا۔ سنن نسائی ،کتاب التطبیق ،باب ھل یجوز ان تکون سجدۃ اطول من سجدۃ ،حدیث نمبر:1129۔مسند امام أحمد، مسند المکیین، حدیث شداد بن الہاد رضی اللہ عنہ، حدیث نمبر:15456۔مصنف ابن أبی شیبۃ،ج7،514-مستدرک علی الصحیحین، کتاب معرفۃ الصحابۃ رضی اللہ عنہم، من مناقب الحسن والحسین ابنی بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، حدیث نمبر:4759/6707۔معجم کبیرطبرانی، حدیث نمبر :6963۔ مجمع الزوائد،ج9،ص181-سنن الکبری للبیہقی، کتاب الصلاۃ، باب الصبی یتوثب علی المصلی ویتعلق بثوبہ فلا یمنعہ. حدیث نمبر:3558۔ سنن کبری للنسائی،ج1،ص243، حدیث نمبر:727۔المطالب العالیۃ ، لابن حجر العسقلانی، حدیث نمبر:4069۔مسند أبی یعلی، ثابت البنانی عن أنس، حدیث نمبر:3334۔کنز العمال،تابع لکتاب الفضائل من قسم الأفعال،الباب الخامس فی فضل أہل البیت، حدیث نمبر: 380/37705/37706 واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ وبانی ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com