***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1490    "یزید کا امام عالیمقام کے سر انور کی بے ادبی کرنا " ایک روایت کی تحقیق
مقام : جدہ,
نام : محمد نعیم الدین
سوال:    

عام طور پر یہ روایت بیان کیجاتی ہے کہ یزید کے سامنے جب امام حسین رضی اللہ عنہ کا سرمبارک لایاگیا تو وہ آپ کے دانتوں پر چھڑی مارے نے لگا اسی وقت وہاں موجود ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے اس کو سختی سے روکا ،احقر یہ جاننا چاہتا ہے کہ یہ روایت کس کتاب میں ہے اور وہ صحابی کا نام کیا ہے ؟


............................................................................
جواب:    

آپ نے جس روایت کے بارے میں دریافت کیا ہے اس کو علامہ ابن کثیر(مولود700ھ متوفی774ھ) نے البدایہ والنہایہ ج8،ص 209، میں درج کیا ہے اوروہ صحابئ جلیل رضی اللہ عنہ جنہوں نے یزید کی اس حرکت شنیع پر نکیرفرمائی ،حضرت ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ ہیں ، حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ(مولود773،ھ متوفی852ھ) نے ان کا نام مبارک نضلہ بن عبید رضی اللہ عنہ ذکر کیاہے ۔(تہذیب التہذیب ج10،ص399) البدایہ والنہایہ ج8،ص 209، کے حوالہ سے مذکورہ روایت درج ذیل ہے : وقال ابومخنف عن ابی حمزۃ الثمالی عن عبداللہ الیمانی عن القاسم بن بخیت ، قال لماوضع راس الحسین بین یدی یزید بن معاویۃ جعل ینکت بقضیب کان فی یدہ فی ثغرہ،ثم قال ان ہذا وایانا کماقال الحصین بن الحمام المری:
یفلقن ہاما من رجال اعزۃ ٭ علینا وہم کانوا اعق واظلما -
فقال لہ ابوبرزۃ الاسلمی اما واللہ لقد اخذ قضیبک ہذا ماخذاً لقد رایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یرشفہ ، ثم قال الا ان ہذا سیجیء یوم القیامۃ وشفیعہ محمد، وتجیء وشفیعک ابن زیاد،
ترجمہ:ابو مخنف نے ابو حمزہ ثمالی سے روایت کی ہے ،انہوں نے عبداللہ یمانی سے روایت کی ہے، انہوں نے قاسم بن بخیت سے روایت کی ہے، انہوں نے کہا: جب امام حسین رضی اللہ عنہ کا سرانور یزید کے سامنے رکھاگیا اس کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی جس سے وہ آپ کے سامنے کے دندان مبارک کو کچوکے دینے لگا ،پھر اس نے کہا: بیشک ان کی اورہماری مثال ایسی ہے جیسا کہ حصین بن حمام مری نے کہا: ہماری تلواریں ایسے لوگوں کی کھوپڑیاں پھوڑتی ہیں جوہم پر غلبہ وقوت رکھتے تھے اور جو حد درجہ نافرمان اورظالم تھے- حضرت ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :سن لے اے یزید! قسم بخدا تو اپنی چھڑی اس مقام پر ماررہا ہے جہاں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بوسہ دیتے اور چوستے ہوئے دیکھاہے ، پھر فرمایا آگاہ ہوجا !اے یزید بروزمحشر امام حسین رضی اللہ عنہ اس شان سے آئیں گے ان کے شفیع حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہونگے اور تو اس طر ح آئے گا کہ تیرا طرف دار ابن زیادِبدنہاد ہوگا (البدایۃ والنہا یۃ ج 8ص 208) ونیز مذکورہ کتاب کی ج8ص 215، پر اسی واقعہ سے متعلق روایت بالاکے آخرمیں اس طرح منقول ہے : فقال لہ ابوبرزۃ: ارفع قضیبک ، فواللہ لربما رایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واضعا فیہ علی فیہ یلثمہ- ترجمہ:اس وقت یزید سے ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اپنی چھڑی کو ہٹالے! قسم بخدا میں نے بکثرت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا دہن مبارک امام حسین کے دہن مبارک پر رکھ کرچومتے ہوئے دیکھا ہے ۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com