***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1495    شہادت حسین کا ذکر حدیث پاک میں
مقام : ,
نام :
سوال:    

امام حسین رضی اللہ عنہ کی جو شہادت ہوئی ‘ کیا اس کا ذکر کہیں حدیث شریف میں ملتا ہے کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت ہونے والی ہے ، اگر ایسی کوئی روایت ہو تو حوالہ بیان فرمائیں ۔ شکریہ


............................................................................
جواب:    

حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امام حسین رضی اللہ عنہ کے شیر خوارگی کی عمر میں آپ کی شہادت کے بارے میں ارشاد فرمادیا تھا کہ میرے اس شہزادے کو میری امت شہید کردے گی جیساکہ امام بیہقی کی دلائل النبوۃ میں حدیث پاک مذکور ہے : عن ام الفضل بنت الحارث انہا دخلت علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقالت:یارسول اللہ انی رأیت حلما منکرااللیلۃ !قال ما ہو؟قالت انہ شدید،قال وما ہو؟قالت رأیت کان قطعۃ من جسدک قطعت ووضعت فی حجری ۔فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رأیت خیرا ،تلد فاطمۃ ان شاء اللہ غلاما یکون فی حجرک،فولدت فاطمۃ الحسین فکان فی حجری کما قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ،فدخلت یوما علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوضعتہ فی حجرہ ثم کانت منی التفاتۃ فاذا عینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھریقان الدموع، قالت فقلت یانبی اللہ بابی انت وامی مالک؟قال اتانی جبریل علیہ السلام فاخبرنی ان امتی ستقتل ابنی ھذا،فقلت ھذا ؟قال نعم واتانی بتربۃ من تربتہ حمراء رواہ البیہقی فی دلائل النبوۃ۔

 

        ترجمہ:حضرت ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ وہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوکر عرض کیں یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں نے آج رات ایک خوفناک خواب دیکھا ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا آپ نے کیا خواب دیکھا؟ عرض کرنے لگیںوہ بہت ہی فکر کا باعث ہے ،آپ نے ارشادفرمایا: وہ کیا ہے؟ عرض کرنے لگیں : میں نے دیکھا ’’گویا آپ کے جسد اطہر سے ایک ٹکڑا کاٹ دیا گیا اور میری گود میں رکھ دیا گیا‘‘۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: آپ نے بہت اچھا خواب دیکھا ہے، ان شاء اللہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو صاحبزادے تو لد ہونگے اوروہ آپکی گود میں آئینگے چنانچہ ایساہی ہوا ،حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو حضرت اما م حسین رضی اللہ عنہ تولد ہوئے اوروہ میری گود میںآئے جیسا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بشارت دی تھی ، پھر ایک روز میں حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی او رحضرت حسین رضی اللہ عنہ کو آپ کی خدمت میں پیش کیاپھر اسکے بعد کیا دیکھتی ہوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چشمان اقدس اشکبار ہیں، یہ دیکھ کر میںنے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان !اشکباری کا سبب کیاہے ؟حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جبرئیل علیہ السلام نے میری خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: عنقریب میری امت کے کچھ لوگ میرے اس بیٹے کو شہید کرینگے ۔ میں نے عرض کیا :حضور ! کیا وہ اس شہزادے کو شہید کرینگے ؟حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :ہاں! او رجبرئیل امین علیہ السلام نے اس مقام کی سرخ مٹی میری خدمت میں پیش کی ۔ ( دلائل النبوۃللبیہقی حدیث نمبر:2805،مشکوۃ المصابیح ج2ص572، زجاجۃ المصابیح ج5ص327!328 باب مناقب اہل بیت النبی صلی اللہ علیہ وسلم )

واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com