***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1497    اہل بیت کرام کی شان میں بدگوئی غضب الہی کا باعث
مقام : عثمان آباد،مہاراشٹرا,
نام : محمدجلال الدین قادری
سوال:    

میں ایک مسئلہ میں شرعی رہنمائی چاہتاہوں ، میں عثمان آباد کا رہنے والاہوں ،ممبئی اور دوسرے بڑے شہروں میں میرا آناجاناہوتاہے ، مختلف لوگوں سے ملاقاتیں ہوتی ہے ، ایک مرتبہ کسی اسلامی موضوع پر گفتگو کے وقت ایک صاحب نے اہل بیت کے بارے میں برابھلا کہا ، میں نے اُسے منع کیا۔ میں یہ جاننا چاہتاہوں کہ اہل بیت کی شان میں نامناسب باتیں کرنے والوں کا کیا حکم ہے؟


............................................................................
جواب:    

حضرات اہل بیت کرام کواللہ تعالی نے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت سے خصوصی عظمت ورفعت عطاکی ہے، وہ پرُتقدس اورواجب الاحترام شخصیات ہیں۔ان کی شان میں بدگوئی کرنااورنامناسب کلمات کہناسخت حرام ‘غضب الہی کا باعث اور ہلاکت کا موجب ہے۔ شعب الایمان، مشکوٰۃالمصابیح اورزجاجۃ المصابیح میں حدیث شریف  ہے،حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:ستۃ لعنتہم ولعنہم اللہ وکل نبی مجاب۔ ۔ ۔ والمستحل لحرم اللہ والمستحل من عترتی ماحرم اللہ۔ ۔ ۔ ۔ترجمہ:چھ افراد ایسے ہیں جن پر میری لعنت ہے اور اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے اور ہر نبی کی دعا قبول ہوتی ہے ،۔ ۔ ۔ اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال سمجھنے والا اور میری آل وعترت سے متعلق ان چیزوں کو حلال سمجھنے والا جنہیں اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے ؛یعنی ان کی بے حرمتی و بے توقیری کرنے والا۔(شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر:3850۔ مشکوٰۃالمصابیح ، ج1 ، ص22۔زجاجۃ المصابیح،ج5)

نیزحضوراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امت کوتاکیدی طورپرفرمایا کہ وہ اہل بیت کرام کی شان میں نازیباالفاظ نہ کہے،چنانچہ صحیح مسلم شریف میں حدیث پاک ہے:عن زید بن ارقم قال قام رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یوما فینا خطیبا بماء ید عی خما بین مکۃ والمدینۃ فحمد اللہ واثنی علیہ ووعظ وذکر ثم قال: اما بعد ! ایہا الناس! انما انا بشر یوشک ان یأتینی رسول ربی؛ فاجیب، وانا تارک فیکم الثقلین، اولہما:کتاب اللہ؛ فیہ الہدی والنور، فخذوا بکتاب اللّٰہ، واستمسکوابہ! فحث علی کتاب اللہ، ورغب فیہ، ثم قال:اہل بیتی، اُذکرکم اللہ فی اہل بیتی! اذکرکم  اللہ فی اہل بیتی۔ ۔ ۔ ترجمہ:حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،وہ فرماتے ہیں:حضرت رسول اللہ صلی علیہ وآلہ وسلم ایک روز مقام’’ غدیر خم‘‘ میں خطبہ ارشادفرمانے کے لئے جلوہ گرہوئے ۔جو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان ہے۔پس آپ نے اللہ تعالیٰ کاشکر بجالایا،تعریف بیان کی ، وعظ فرمایا، نصیحتیں فرمائیں اورآخرت کی یاد دلائی ،پھر ارشادرفرمایا: امابعد: اے لوگو !بیشک میں بشری لباس میں جلوہ گرہوا ہوں، عنقریب میرے رب کا قاصد میرے پاس آئے گااو رمیں اس کی دعوت کو قبول کرونگا ، میں تمہارے درمیان دوعظیم ترین نعمتیں چھوڑے جارہا ہوں: ان میں سے ایک ’’ اللہ کی کتاب‘‘ہے ؛جس میں ہدایت اور نور ہے، تو تم اللہ تعالی کی کتاب کو تھام لو اور مضبوطی سے پکڑے رہو،اس کے بعداللہ کی کتاب کے بارے میں تلقین فرمائی او راس کی رغبت دلائی ،پھر ارشاد فرمایا :(دوسری نعمت )اہل بیت کرام ہے ۔ میں تمھیں اللہ کی یاد دلاتا ہوں میرے اہل بیت کے بارے میں، میں تمھیں اللہ کی یاد دلاتا ہوں میرے اہل بیت کے بارے میں!(صحیح مسلم،کتاب فضائل الصحابۃ، حدیث نمبر6378۔مشکوۃ المصابیح، ص68 ، زجاجۃ المصابیح ،ج5 ص317/319 )

مذکورہ حدیث شریف میں’’اذکرکم اللہ‘‘’’میرے اہل بیت کرام کے بارے میں‘میں تمہیںاللہ کی یاددلاتاہوں ‘‘ دومرتبہ فرمایا،جس سے اہل بیت کرام سے اٹوٹ وابستگی ومحبت کی ترغیب بھی ہے اوران کے بارے میں بدگوئی کرنے پرشدیدتنبیہ بھی ہے۔

واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ حیدرآباد دکن۔

 

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com