***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1498    امام حسین رضی اللہ عنہ سے متعلق ایک روایت کی تحقیق
مقام : شکر گنج ، حیدرآباد,
نام : عمر محی الدین
سوال:    

مفتی صاحب میں نے ایک روایت سنی تھی کہ امام حسین رضی اللہ عنہ نے کسی کنویں میں اپنا لعاب ڈالا تو وہ کنویں کا پانی میٹھا ہوگیا، تفصیلی واقعہ حوالہ کے ساتھ ارشاد فرمائیں تو نوازش ہوگی۔ شکریہ


............................................................................
جواب:    

آپ نے جو روایت ذکر کی ہے اس کو تیسری صدی ہجری کے محدث محمد بن سعد رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 230؁ھ)نے ’’ الطبقات الکبری‘‘ میں روایت کیاہے :عن أبی عون قال: لما خرج حسین بن علی من المدینۃ یرید مکۃ مر بابن مطیع وہو یحفر بئرہ، فقال لہ:أین، فداک أبی وأمی؟قال: أردت مکۃ ۔ ۔ ۔ فقال لہ ا بن مطیع: إن بئری ہذہ قد رشحتہا وہذا الیوم أوان ما خرج إلینا فی الدلو شیء من ماء ، فلو دعوت اللہ لنا فیہا بالبرکۃ. قال: ہات من مائہا، فأتی من مائہا فشرب منہ ثم مضمض ثم ردہ فی البئر فأعذب وأمہی۔ ترجمہ :حضرت ابوعون سے روایت ہے ‘ اُنہوں نے فرمایا :حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ جب مدینہ شریف سے مکہ معظمہ جارہے تھے تو ابن مطیع کے پاس سے آپ کا گزرہوا جو کنواں کھدوارہے تھے، عرض کیا:میرے ماں باپ آپ پر قربان !کہاں کا ارادہ ہے ؟ امام عالی مقام نے فرمایا :مکہ شریف کا ارادہ ہے ۔ ۔ ۔ تو ابن مطیع نے اپنی ایک حاجت پیش کی اور عرض کیا: میں نے یہ کنواں کھدوایا ہے اور آج ڈول میں تھوڑا سا پانی نکلاہے ، آپ اس میں برکت کیلئے اللہ تعالی سے دعا کیجئے ! امام حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا :اس کا تھوڑا پانی لاؤ! جب پانی حاضر خدمت کیا گیا تو آپ نے کچھ پانی نوش فرماکر کلی کی پھر اس پانی کو کنویں میں ڈال دیاتو اس کا پانی میٹھا وشیریں ہوگیااور بہت زائد ہوگیا۔ (الطبقات الکبریٰ لابن سعد ، باب ابوسعید )

واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com