***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1513    نعت شریف پڑھنا صحابہ کی سنت
مقام : ,
نام : وہاب محمد خان
سوال:    

کیا نعت شریف پڑھناصحابہ سے ثابت ہے ؟کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر قبلہ رو ہوکر سلام یا نعت پڑھ سکتے ہیں؟


............................................................................
جواب:    

حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں درود و سلام پیش کرنے کا اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں حکم فرمایا اور نعت شریف پڑھنا صحابہ کرام کا طریقہ ہے۔ امام حاکم کی مستدرک ، امام طبرانی کی معجم کبیر اور علامہ ہیثمی کی مجمع الزوائد میں اس سے متعلق روایتیں منقول ہیں کہ غزوۂ تبوک سے واپسی کے وقت سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے آپ کی تعریف وتوصیف اورمدح وثنا کرنے کی اجازت طلب کی ، حضور پاک صلی اللہ والہ وسلم نے دعاؤں سے نوازتے ہوئے اجازت مرحمت فرمائی تب حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اشعار پڑھے۔ امام حاکم کی کتاب مستدرک علی الصحیحین سے حدیث شریف کا متن نقل کیا جارہا ہے : سمعت جدی خريم بن اوس حارثة بن لام رضی الله عنه يقول هاجرت الی رسول الله صلی الله عليه وسلم منصرفه من تبوک فاسلمت فسمعت العباس بن عبدالمطلب يقول يارسول الله انی اريد ان امتدحک فقال رسول الله صلی الله عليه وسلم قل لايفضفض الله فاک قال قال فقال العباس من قبلها طبت فی الظلال وفی+ مستودع حيث يخصف الورق ثم هبطت البلاد لا بشر+انت ولا مضغة ولا علق بل نطفة ترکب السفين وقد+الجم نسرا واهله الغرق تنقل من صالب الی رحم+ اذا مضی عالم بدا طبق حتی احتوی بيتک المهيمن من+ خندف علياء تحتها الطبق وانت لما ولدت اشرقت ال+ارض وضاء ت بنورک الافق۔ ترجمہ:حضرت خریم بن اوس بن حارثہ بن لام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں تبوک سے واپسی کے وقت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی طرف ہجرت کیا اور مشرف بہ اسلام ہوا میں نے حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں یہ عرض کرتے ہوئے سنا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم !میں چاہتاہوں کہ آپ کی مدحت وتعریف کروں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: آپ تعریف کیجئے اللہ تعالی آپ کے چہرہ کوزینت بخشے، حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اشعار کہے منجملہ ان کے کچھ اشعار یہ ہیں جب آپ کی ولادت باسعادت ہوئی تو زمین روشن ومنور ہوگئی اور آ پ کے نور مبارک سے افق عالم منور وتابندہ ہوگئے۔ (معجم کبیر لطبرانی حدیث نمبر 4057 مستدر ک علی الصحیحین کتاب معرفۃ الصحابۃ رضی اللہ عنہم حدیث نمبر 5426، مجمع الزوائد کتاب علامات النبوۃ باب فی کرامۃ اصلہ صلی اللہ علیہ وسلم ج8ص 217﴾ نیز معجم طبرانی اور مجمع الزوائد میں یہ شعر مذکور ہے: فنحن فی ذلک الضياء وفی النور وسبل الرشاد نخترق۔ توہم اس روشنی میں اور اسی نور میں ہدایت کے راستے سرکررہے ہیں۔ مستدرک میں لايفضفض کے الفاظ ہیں اور معجم کبیر اور مجمع الزوائد میں لا يفضض مروی ہے۔ اگرمسجدنبوی شریف میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے مواجہ شریف میں حاضرہوں تو پھرآپ ہی کی جانب رخ کرکے سلام ونعت پڑھیں ۔ مواجہ شریف کے علاوہ کہیں بھی ہو تو حسب سہولت مکمل ادب واحترام ،تعظیم وتکریم ملحوظ رکھتے ہوئے نعت وسلام پڑھیں ،چنانچہ بغرض تکریم وتعظیم قبلہ رخ پڑھیں تو شرعا جائز ہے ۔ مذکورہ بالا تفصیل سے درود و سلام اور نعت شریف پڑھنے کا جواز و استحباب معلوم ہوا‘ لہٰذا کسی بھی جانب رُخ کرکے پڑھا جاسکتا ہے‘ خواہ رُخ قبلہ کی جانب ہو یا کسی اور جانب‘ پڑھنے والے اپنی سہولت و آسانی سے کسی بھی جانب رُخ کرسکتے ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com