***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1515    حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نسب مبارک سے متعلق ایک روایت کی تحقیق
مقام : سکندرآباد,
نام : محمد عبید الرحمن
سوال:    

قیامت کے دن جب کہ سارے رشتے ناطے ٹوٹ جائیں گے تو کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رشتہ داری کا بھی یہی حکم ہے یا آپ کی رشتہ داری اور آپ کا نسب کام آئیگا؟ کیا ایسی کوئی صحیح حدیث موجود ہے اس لئے کہ میرے ایک ساتھی سے گفتگو ہوئی انہوں نے کہا یہ بات لوگوں میں مشہور تو ضرور ہے لیکن صحیح حدیث میں اس کا ذکر نہیں۔ براہ کرم اطمینان بخش جواب عنایت فرمائیں۔


............................................................................
جواب:    

اللہ تعالی نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے منسوب ہر چیز کو عظمت وبزرگی ،شرافت وکرامت عطافرمائی ہے، آپ کا نسب مبارک دنیا وآخرت میں نفع بخش اور فیض رساں ہے، اس سلسلہ میں مستند کتب احادیث شریفہ میں صحیح الاسناد احادیث موجود ہیں، چنانچہ مستدرک علی الصحیحین ، ذکر فضائل القبائل،حدیث نمبر7057۔ مسند امام احمد، مسند أبی سعید الخدری، حدیث نمبر11437۔ مسند ابو یعلی،من مسند أبی سعید الخدری، 1203۔ جامع الاحادیث والمراسیل، حدیث نمبر19907۔ الجامع الکبیر للسیوطی ، حرف المیم، حدیث نمبر551۔ مجمع الزوائد،حدیث نمبر18464۔ کنز العمال،کتاب الحوض، حدیث نمبر39186 ملاحظہ ہو: عن حمزۃ بن أبی سعید الخدری عن أبیہ رضی اللہ عنہ قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول علی المنبر مَا بَالُ أقْوَام یقولون إن رحمی لاینفع بلی واللہ إن رحمی موصولۃ فی الدنیا والآخرۃ- ہذا حدیث صحیح الإسناد۔ ترجمہ:حضرت حمزہ بن ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اپنے والد ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منبر شریف پر ارشاد فرماتے ہوئے سنا: لوگوں کو کیا ہوگیا جوکہتے ہیں کہ میرا نسبی تعلق کوئی فائدہ نہیں دے گا، کیوں نہیں! اﷲکی قسم بے شک میرا نسبی تعلق دنیا وآخرت ہردومیں باہم ملا ہوا ہے جو کبھی منقطع نہیں ہوگا۔ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ ونیز مستدرک علی الصحیحین، کتاب معرفۃ الصحابۃ رضی اللہ عنہم،حدیث نمبر4667۔ مسند امام احمد،حدیث نمبر19444۔ سنن کبری بیہقی،ج7،ص64۔ معجم کبیر طبرانی،حدیث نمبر2568/ 2569۔ معجم اوسط طبرانی، حدیث نمبر5764۔ جامع الاحادیث والمراسیل،حرف الکاف،حدیث نمبر15740۔ مسند بزار، مسند عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ، حدیث نمبر273۔ الجامع الکبیر للسیوطی، حرف الکاف، حدیث نمبر812۔ کنز العمال،حدیث نمبر31914۔ حلیۃ الأولیاء ج7،ص،314-میں روایت ہے: عن علی بن الحسین ۔ ۔ ۔ فقال عمر ۔ ۔ ۔ إنی سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول کل نسب وسبب ینقطع یوم القیامۃ إلا ما کان من سببی ونسبی۔ ہذا حدیث صحیح الإسناد۔ ترجمہ: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا: قیامت کے دن میرے نسب اور میرے رشتۂ غلامی کے سوا ہر رشتہ وہرنسب منقطع ہو جائے گا۔ امام حاکم نے فرمایا: یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com