***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1520    حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے اشعار
مقام : حیدرآباد .انڈیا,
نام : اطہرخان
سوال:    

ایک روایت سننے میں آئی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچاجان عباس رضی اللہ عنہ نے آپ کے سامنے کچھ اشعار پڑھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے دعافرمائی برائے مہربانی بیان فرمائیں کہ یہ مکمل روایت کیاہے اور کونسی کتاب میں ہے ؟


............................................................................
جواب:    

امام حاکم کی مستدرک ، امام طبرانی کی معجم کبیر اور علامہ ہیثمی کی مجمع الزوائد میں اس متعلق روایتیں منقول ہیں کہ غزوۂ تبوک سے واپسی کے وقت سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے آپ کی تعریف وتوصیف اورمدح وثنا کرنے کی اجازت طلب کی ، حضور پاک صلی اللہ والہ وسلم نے دعاؤں سے نوازتے ہوئے اجازت مرحمت فرمائی تب حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اشعار پڑھے۔ امام حاکم کی کتاب مستدرک علی الصحیحین سے حدیث شریف کا متن نقل کیا جارہا ہے : سمعت جدی خريم بن اوس حارثة بن لام رضی الله عنه يقول هاجرت الی رسول الله صلی الله عليه وسلم منصرفه من تبوک فاسلمت فسمعت العباس بن عبدالمطلب يقول يارسول الله انی اريد ان امتدحک فقال رسول الله صلی الله عليه وسلم قل لايفضفض الله فاک قال قال فقال العباس
من قبلها طبت فی الظلال وفی+ مستودع حيث يخصف الورق
تنقل من صالب الی رحم+ اذا مضی عالم بدا طبق
حتی احتوی بيتک المهيمن من+ خندف علياء تحتها الطبق
وانت لما ولدت اشرقت ال+ارض وضاء ت بنورک الافق۔
ترجمہ:حضرت خریم بن اوس بن حارثہ بن لام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں تبوک سے واپسی کے وقت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی طرف ہجرت کیا اور مشرف بہ اسلام ہوا میں نے حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ الہ وسلم کی خدمت اقدس میں یہ عرض کرتے ہوئے سنا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم !میں چاہتاہوں کہ آپ کی مدحت وتعریف کروں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ اولہ وسلم نے ارشاد فرمایا: آپ تعریف کیجئے اللہ تعالی آپ کے چہرہ کوزینت بخشے، حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اشعار کہے منجملہ ان کے کچھ اشعار یہ ہیں جب آپ کی ولادت باسعادت ہوئی تو زمین روشن ومنور ہوگئی اور آ پ کے نور مبارک سے افق عالم منو روتابندہ ہوگئے۔ (معجم کبیر لطبرانی حدیث نمبر 4057 مستدر ک علی الصحیحین کتا معرفۃ الصحابۃ رضی اللہ عنہم حدیث نمبر 5426، مجمع الزوائد کتاب علامات النبوۃ باب فی کرامۃ اصلہ صلی اللہ علیہ وسلم ج8ص 217( نیز معجم طبرانی اور مجمع الزوائد میں یہ شعر مذکور ہے: فنحن فی ذلک الضياء وفی النور وسبل الرشاد نخترق۔ توہم اس روشنی میں اور اسی نور میں ہدایت کے راستے سرکررہے ہیں۔ مستدرک میں لايفضفض کے الفاظ ہیں اور معجم کبیر اور مجمع الزوائد میں لا يفضض مروی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com