***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1530    خواتین کیلئے چہرہ کے بال نکالنے کا حکم
مقام : بحرین,
نام : شبانہ سلطانہ
سوال:    

بعض عورتوں کوان کے گال اور ٹھوڈی پربال اُگ آتے ہیں ‘خواتین کے چہروں پر بال آنے سے چہرہ بدصورت نظرآتا ہے، میں نے سنا کہ ان بالوں کو اکھاڑ نا گناہ ہے کیا واقعی عورتیں چہرہ پر اُگ آئے بالوں کو نہیں اُکھاڑ سکتیں ؟


............................................................................
جواب:    

شریعت اسلامیہ میں مرد حضرات کے لئے چہرہ کے بال اُکھاڑنا ‘ناجائز اورممنوع قراردیا گیا ہے لیکن خواتین کے لئے یہ حکم نہیں ہے ،حسن وزیبائش ،زینت وآرائش،عورت کے لئے طبعی وفطری امرہے اور فطری طور پر عورت کے چہرہ پربال نہیں آتے جس طرح مرد کو آتے ہیں‘ اگر کسی عورت کے چہرہ ‘گال‘ ٹھوڑی وغیرہ پربال اُگ آئیں توا س کے لئے بہتر ومستحب ہے کہ چہرہ کے بالوں کو اُکھاڑدے ۔ جیسا کہ ردالمحتار ج 5 کتاب الحظرو الاباحۃ ،فصل فی النظروالمس ص 264 میں ہے: ازالۃ الشعرمن الوجہ حرام الا اذا نبت للمر اۃ لحیۃ اوشوارب فلا تحرم ازالتہ بل تستحب ۔ ترجمہ: چہرہ سے بال اکھاڑنا حرام ہے البتہ عورت کے چہرہ پر ڈاڑھی یا مونچھ جیسے بال اگ آئیں تو اس کودورکرنا حرام نہیں بلکہ دور کرلینا مستحب ہے ۔ واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com