***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1543    غسل میں کلی کئے بغیر نماز ادا کرلے تو کیا حکم ہے ؟
مقام : قطب اللہ پور ، انڈیا,
نام : فضالہ
سوال:    

مفتی صاحب !میرا سوال یہ ہے کہ مجھ پر غسل فرض تھا ، میں نیند سے بیدار ہونے کے بعد غسل کیا ، پھر نماز بھی پڑھی ، جب کھانے کے لئے دسترخوان پر بیٹھا تو اچانک یاد آیا کہ میں غسل میں کلی کر نا بھول گیا ،اب میرے لئے کیا حکم ہے ؟ کیا دوبارہ غسل کرنا ضروری ہے یا نہیں ؟ اور پڑھی گئی نماز ہوگی یا نہیں ؟ جواب دیں تو مہربانی ہوگی ۔


............................................................................
جواب:    

اگر کوئی شخص غسل جنابت کرتے وقت کلی کرنا بھول جائے اور بعد میں یاد آجائے تو اس کے لئے حکم شریعت یہ ہے کہ جب بھی یاد آجائے کلی کرلے ، دوبارہ غسل کرنے کی ضرورت نہیں اور جو نماز ادا کیا ہے وہ شرعًا درست نہیں ہوئی لہذا اسے دوبارہ پڑھنا ضروری ہے ۔ 

        جیساکہ منیۃ المصلی میں ہے : وان ترکھا ناسیا ثم تذکر علیہ ان یمضمض ویعید ماصلی ان کان فرضا وان کان نفلا فلا۔(منیۃ المصلی ، ص13)

واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com