***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1552    کیا گرمی جہنم کی وجہ سے ہوتی ہے ؟
مقام : اڑیسہ,
نام : اجمل نواب
سوال:    

موسم گرما کی گرمی اپنے عروج کو پہنچ چکی ہے ، گرمی کے بارے میں میں نے سنا ہے کہ سخت گرمی جہنم کی وجہ سے ہوتی ہے ، کیا یہ نظریہ درست ہے یا نہیں ؟ مہربانی فرماکر اس کا جواب ضرور دیجئے ۔


............................................................................
جواب:    

یہ بات درست اور حدیث پاک سے ثابت ہے کہ گرمی کی شدت وتیزی جہنم کے سانس لینے کی وجہ سے ہوتی ہے چنانچہ صحیح بخاری شریف میں حدیث پاک ہے :عن أبی ہریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال إذا اشتد الحر فأبردوا بالصلاۃ ، فإن شدۃ الحر من فیح جہنم واشتکت النار إلی ربہا فقالت یا رب أکل بعضی بعضا . فأذن لہا بنفسین نفس فی الشتاء ، ونفس فی الصیف ، فہو أشد ما تجدون من الحر ، وأشد ما تجدون من الزمہریر۔ 

        ترجمہ : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ نے فرمایا: جب گرمی سخت ہوتو نماز ظہر کو ٹھنڈی کرلیا کرو (تاخیر سے پڑھو) کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کے جوش کے سبب ہوتی ہے ، جہنم نے اپنے پروردگار سے درخواست کرکے کہا : اے پروردگار ! میرا ایک حصہ دوسرے حصہ کو کھارہا ہے ، تو پروردگار نے اُسے دوسانس لینے کی اجازت دی ؛ ایک سانس سرما میں اور ایک سانس گرما میں ، تو جو سخت گرمی تم محسوس کرتے ہو اُسی سانس کی وجہ سے ہے اور جو سخت سردی تم پاتے ہو اُسی وجہ سے ہے ۔(صحیح البخاری ، کتاب مواقیت الصلاۃ ، باب الإبراد بالظہر فی شدۃ الحر ، حدیث نمبر536)

 

واللہ اعلم بالصواب

سیدضیاءالدین عفی عنہ

شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ

بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔

حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com