***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1555    مغرب کی پہلی رکعت میں سورۂ ناس پڑھے تو کیا حکم ہے؟
مقام : کوٹہ ، راجستھان ،بذریعہ ای میل,
نام : محمد عبداللہ
سوال:    

میں ایک مسجد کا امام ہوں اور آپ کے جوابات سے بہت زیادہ استفادہ کرتاہوں ، مجھے اپنی ذات کے لئے اور دوسرے لوگوں کے لئے بھی فائدہ ہوتا ہے ، میں آپ کے جوابات بہت دلچسپی سے پڑھتا ہوں ، بہت سے مصلیوں کے جو سوالات ہوتے ہیں میں انہی جوابات کی روشنی میں اُن کا حل حاصل کرلیتا ہوں ، یہ معلومات کا بڑا ذریعہ ہے ، مفتی صاحب ! میں نے ایک مرتبہ مغرب کی نماز میں قل اعوذ برب الناس کی تلاوت کی ، مجھے فکر ہوئی کہ دوسری رکعت میں کیا پڑھنا چاہئے ، پھر میں سوچا کہ یہ قرآن کریم کا آخری سورہ ہے اس لئے دوسری رکعت میں میں نے الٓم سورۂ بقرہ مفلحون تک پڑھی ، کیا یہ طریقہ صحیح ہے ؟ کیونکہ تراویح میں بھی پہلی رکعت میں سورۂ ناس اور دوسری رکعت میں مفلحون تک پڑھتے ہیں ، جواب دیں تو میں آپ کا شکرگزار رہوں گا۔


............................................................................
جواب:    

کوئی شخص فرض نماز کی پہلی رکعت میں سورۂ ناس کی تلاوت کرے جبکہ ختم قرآن کا موقع نہ ہوتو دوسری رکعت میں بھی یہی سورہ پڑھ لے کیونکہ خلاف ترتیب تلاوت کرنے سے سورہ کی تکرار کرنا‘ کم درجہ کی کراہت ہے۔

       جب آپ نماز مغرب یا کسی اور فرض نماز کی پہلی رکعت میں سورۂ ناس کی تلاوت کریں تو ایسے موقع پر دوسری رکعت میں بھی سورۂ ناس ہی پڑھ لیں ۔

        رد المحتار میں ہے :فان اضطر بان قرا فی الاولی ۔ ۔ ۔ من البقرۃ ۔ (رد المحتار ، کتاب الصلوٰۃ ، ) واللہ اعلم بالصواب

سیدضیاءالدین عفی عنہ

شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ

بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔

حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com