***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1558    مہرمعاف کرنے کے بعد مطالبہ کا حکم
مقام : کورٹلہ،انڈیا,
نام : ممتاز احمد
سوال:    

ایک لڑکی نے اپنے شوہر کے حق میں مہر سے متعلق کہا کہ میں نے مہر معاف کیا ، اس کے گواہ بھی موجود ہیں ، کچھ عرصہ کے بعد لڑکی کا اپنے شوہر سے کوئی جھگڑا ہوا ، اب وہ شوہر سے مہر مانگ رہی ہے ، حالانکہ وہ معاف کرنے والی بات کا اعتراف کرتی ہے اور کہتی ہے کہ ہاں میں نے اُس وقت معاف کیا تھا ، لیکن اب میں اپنا حق لینا چاہتی ہوں ۔ اس سلسلہ میں کیا لڑکی مہر کی حقدار ہوگی ؟ کیا اُس کا مطالبہ صحیح ہے ؟ اگر شوہر اُسے مہر نہ دے تو کیا وہ اللہ تعالی کے پاس گنہگار ہوگا؟


............................................................................
جواب:    

بیوی نے اگر مہر معاف کردیا تھا تو مہر اُسی وقت شوہر کے ذمہ سے ساقط ہوچکا ، بعد ازاں بیوی مہر کا مطالبہ کرتی ہے تو وہ اُس کی حقدار نہ ہوگی اور نہ اُس کا مطالبہ درست ہے کیونکہ جو چیز ذمہ سے ساقط ہوجاتی ہے تو دوبارہ ذمہ میں واجب نہیں ہوتی۔ (الاشباہ والنظائر ، الفن الثالث ، بیان ان الساقط لایعود) واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com