***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1561    غائبانہ نماز جنازہ پڑھنا کیسا ہے ؟
مقام : ,
نام : مجتبی
سوال:    

مفتی صاحب ! میرا سوال غائبانہ نماز جنازہ سے متعلق ہے ، کیا غائبانہ نماز جنازہ پڑھنا درست ہے ؟


............................................................................
جواب:    

فقہ حنفی کے مطابق غائبانہ نمازِ جنازہ پڑھنا درست نہیں ، حدیث پاک میں جو وارد ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی بادشاہ کی نماز جنازہ پڑھی وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات سے ہے ، یا وہ غائبانہ نماز جنازہ نہ تھی بلکہ جنازہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے من جانب اللہ حاضر کردیا گیا تھا ، فقہاء مالکیہ کا بھی یہی قول ہے ۔

        البتہ فقہاء شافعیہ وحنابلہ کے پاس غائبانہ نمازِ جنازہ پڑھی جاسکتی ہے۔

جیساکہ بدائع الصنائع میں ہے ؛ قَالَ أَصْحَابُنَا : لَا يُصَلَّى عَلَى مَيِّتٍ غَائِبٍ. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع)

وَلَا يُصَلَّى عَلَى غَائِبٍ عَلَى سَبِيلِ الْمَنْعِ إلَى أَنْ قَالَ : وَالْمُعْتَمَدُ التَّحْرِيرُ خِلَافًا لِقَوْلِ عِيَاضٍ بِالْكَرَاهَةِ. (شرح مختصر خليل للخرشي)

وتجوز الصلاة على الغائب في بلد آخر بالنية فيستقبل القبلة ويصلي عليه كصلاته على حاضر وسواء كان الميت في جهة القبلة أو لم يكن وسواء كان بين البلدين مسافة القصر أو لم يكن وبهذا قال الشافعي. (المغني لابن قدامة المقدسي)

تَجُوزُ الصَّلَاةُ عَلَى الْغَائِبِ عَنْ الْبَلَدِ وَلَوْ دُونَ مَسَافَةِ الْقَصْرِ وَفِي غَيْرِ جِهَةِ الْقِبْلَةِ وَالْمُصَلِّي مُسْتَقْبِلَهَا. (أسنى المطالب للنووي)

واللہ اعلم بالصواب سید ضیاء الدین عفی عنہ شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدرابوالحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر www.ziaislamic.com حیدرآباد ، دکن ،انڈیا

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com