***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1564    حج کی فرضیت سے متعلق ایک اہم فتوی
مقام : پونے ، انڈیا,
نام : شاہین
سوال:    

مفتی صاحب ! میرے بھائی سعودیہ میں ملازمت کرتے تھے ،جب وہ ملازمت کے لئے گئے تو بالکل تنگدستی کی حالت میں تھے ، اللہ کا شکر ہے کہ انہیں فورًا جاب مل گئی اور وہ حج کی استطاعت نہ ہونے کے باوجود حج بھی ادا کرلئے ، اب وہ انڈیا میں ہی رہتے ہیں ، مالی حالت بھی اچھی ہوچکی ہے ، اور حج کے لئے جانے کا خرچہ بھی موجود ہے ، میں نے ان سے کہا کہ آپ پر حج فرض ہوگیا ، آپ حج کر لیجئے ! تو انہوں نے کہا کہ میں فرض حج کرچکا ہوں ، اب میرے اوپر حج فرض نہیں ۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیااب ان کے لئے حج فرض ہے یا جو حج انہوں نے تنگی کی حالت میں کیا تھا وہی کافی ہوجائے گا ؟ رہنمائی فرمائے تو بڑا کرم ہوگا۔


............................................................................
جواب:    

اگر کوئی شخص استطاعت نہ ہونے کے باوجود اپنا حج ادا کرلیا ہے تواس کا حج ادا ہوجائے گااور فرضیت ساقط ہوجائے ، استطاعت کے بعد دوبارہ حج فرض نہیں ہوگا۔

 

            لہذا آپ کے بھائی نے جوبات کہی ہے وہ بالکل درست ہے ،اگر وہ دوبارہ حج کے لئے جاتے ہیں تو یہ ان کے لئے نفل حج ہوجائے گا۔

 

            جیساکہ البحر الرائق میں ہے :( قوله : کالفقیر إذا حج ) أی فإنه یسقط عنه الفرض حتی لو استغنی لا یجب علیه أن یحج ۔ (البحر الرائق ، کتاب الحج ، واجبات الحج)

واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com