***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1571    کبوتر کے پس خوردہ کا حکم
مقام : وقار آباد،انڈیا,
نام : حفصہ فاطمہ
سوال:    

ہمارے پاس کبوتر ہیں ، ہم تیسری منزل کی چھت پر کبوتروں کے لئے گھر بناکر اُنہیں رکھتے ہیں ، شام سے پہلے کبوتروں کو کچھ دیر چھوڑدیتے ہیں ، چھت پر بیارل میں پانی رکھا ہوا ہوتاہے ، جس سے ہم کپڑے دھوتے ہیں ،جب بیارل پانی سے بھرا ہو تو کبوتر اُس سے پانی پیتے ہیں ، سوال یہ ہے کہ کیا ہم اُس پانی سے کپڑے دھوسکتے ہیں ؟ بعض وقت وضو بھی کرتے ہیں یا پانی مکروہ ہوجاتاہے ؟


............................................................................
جواب:    

حلال جانوروں کا جھوٹا پاک ہے ، کبوتر چونکہ حلال ہے اس لئے اس کا پس خوردہ پاک ہی ہوگا۔

اگر بیارل سے کبوتر پی لے تو پانی مکروہ نہیں ہوتا، اُس پانی کو کپڑے دھونے اور وضو وغسل کرنے کے لئے بلا کراہت استعمال کیا جاسکتا ہے ۔

فتاوی عالمگیری میں ہے : وکذا سؤر مایؤکل لحمہ من الدواب والطیور طاھر ماخلا الدجاجۃ المخلاۃ والابل والبقرۃ الجلالۃ۔(فتاوی عالمگیری ، کتاب الطھارۃ، الباب الثالث فی المیاہ ، الفصل الثانی فیما لایجوز بہ التوضؤ)

 واللہ اعلم بالصواب –

سیدضیاءالدین عفی عنہ

شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ

بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔

www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

 

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com