***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1572    تدفین میں شرکت کئے بغیر جنازہ سے واپسی
مقام : بنگلور،انڈیا,
نام : محمد نصیر الدین
سوال:    

مجھے نماز جنازہ سے متعلق سوال کرنا ہے ، بعض وقت ایسا ہوتا ہے کہ ہمیں ملازمت کی وجہ سے آفس جانا ہوتا ہے یا کوئی اور ضروری کام ہوتا ہے ، ایسے وقت انتقال کی خبر آتی ہے ، ہم میت کے گھر والوں کے پاس جاکر تعزیت کے لئے ملاقات کرسکتے ہیں ، نماز جنازہ میں شریک رہ سکتے ہیں لیکن تدفین تک ٹہر نہیں سکتے ، ایسی صورت میں کیا ہم جنازہ کے ساتھ کچھ دور چل کر جاب پر یا ضروری کام کے لئے جاسکتے ہیں یا نہیں ؟ شرعی رہنمائی فرمائیں ۔

 


............................................................................
جواب:    

اگر کوئی شخص جنازہ کے ساتھ ہو تو اُسے نماز پڑھے بغیر واپس نہیں ہونا چاہئیے ، ہاں نماز جنازہ پڑھنے کے بعد تدفین سے پہلے جانا ہوتو میت کے گھر والوں سے اجازت حاصل کرلے ۔

ملازمت یا کسی اور ضرورت کے باعث آپ اگر تدفین میں شرکت نہیں کرپاتے ہوں تو اولیائے میت کو کہہ کر واپس ہوجانا‘ مناسب ہے ، ہاں اگر اولیائے میت سے ملنے اور اجازت لینے میں ہجوم کی وجہ سے دشواری ہو یا تاخیر کا اندیشہ ہوتو ویسے ہی جانا خلاف اولیٰ بھی نہیں ہے ۔

فتاوی عالمگیری میں ہے : ولا ینبغی أن یرجع من جنازۃ حتی یصلی علیہ وبعدما صلی لا یرجع إلا بإذن أہل الجنازۃ قبل الدفن وبعد الدفن یسعہ الرجوع بغیر إذنہم ۔ (فتاوی عالمگیری ، کتاب الطھارۃ، الباب الحادی والعشرون فی الجنائز ، الفصل الخامس فی الصلٰوۃ علی المیت)

 واللہ اعلم بالصواب –

سیدضیاءالدین عفی عنہ

شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ

بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔

www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن 

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com