***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1577    نماز قائم کرنے کا مفہوم
مقام : یو اے ای,
نام : حسن خان
سوال:    

: میں قرآن کریم کا ترجمہ پڑھ رہاہوں ، ترجمہ پڑھتے وقت میں نے کئی جگہ دیکھا کہ نماز قائم کرنے کاذکر ملتا ہے ، یعنی نماز قائم کرو، ایمان والے نماز قائم کرتے ہیں ، متقی نماز قائم کرتے ہیں ۔ میرا سوال یہ ہے کہ ’’ نماز پڑھو‘‘ کی جگہ ’’ نماز قائم کرو‘‘ کیوں فرمایا گیا؟ اس کی کیا وجہ ہے ؟ وضاحت فرمائیں تو نوازش ہوگی۔

 


............................................................................
جواب:    

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں نماز قائم کرنے کا جو حکم فرمایا ہے مفسرین نے اُس کی متعدد تفاسیر کی ہیں ، صاحب روح المعانی علامہ شہاب الدین محمود آلوسی رحمۃ اللہ علیہ نے سورۂ بقرہ آیت نمبر:3  یقیمون الصلوٰۃ (وہ نماز قائم کرتے ہیں)کی تفسیر میں لکھا ہے : (1) وہ فرائض وواجبات کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں (2) سنتوں اور آداب کا لحاظ کرتے ہوئے نماز ادا کرتے ہیں (3) پابندی کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں (4) کوتاہی اور سستی کے بغیر مکمل نشاط کے ساتھ نماز ادا کرتے ہیں۔

            تفسیر روح المعانی میں ہے : ومعنی ( یُقِیمُونَ الصلاۃ ) یعدلون أرکانہا بأن یوقعوہا مستجمعۃ للفرائض والواجبات أو لہا مع الآداب والسنن من أقام العود إذا قومہ أو یواظبون علیہا ویداومون من قامت السوق إذا نفقت وأقمتہا إذا جعلتہا نافقۃ أو یتشمرون لأدائہا بلا فترۃ عنہا ولا توان من قولہم قام بالأمر وأقامہ إذا جدّ فیہ ۔ (روح المعانی ، سورۃ البقرۃ، آیت نمبر:3)

واللہ اعلم بالصواب –

سیدضیاءالدین عفی عنہ

شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ

بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔

www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

 

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com