***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1579    مہر مثل کسے کہتے ہیں؟
مقام : دمام,
نام : محمد حامد
سوال:    

میں نے مہر کے کئی مسائل میں ’’ مہر مثل ‘‘ کا ذکر دیکھا اور علماء سے بھی سنا ہے ، میں جاننا چاہتوں کہ مہر مثل کس مہر کو کہتے ہیں ؟ میرے بعض دوستوں نے کہا کہ خاندان کی عورتوں کا مہر مہر مثل ہوتا ہے لیکن اس سے مراد ننھیالی خاندان کی عورتیں ہوتی ہیں یا ددھیالی خاندان کی عورتیں ہوتی ہیں ؟ مالدار ہوتی ہیں یا غریب ؟ اس کی وضاحت نہیں کی ۔ مفتی صاحب ! میری آپ سے گزارش ہے کہ مہر مثل کے بارے میں تفصیل بتلائیں۔ جزاک اللہ خیرا ۔

 


............................................................................
جواب:    

فقہاء کرام نے جہاں مہر مثل کہا ہے اُس سے مراد لڑکی کے ددھیالی خاندان کی اس جیسی عورتوں کا مہر ہے ، یعنی مہر مثل لڑکی کی بہنوں ‘ پھوپیوں وغیرہ کے مہر کی مقدار کے برابرہوتا ہے ، خاندان کی اس جیسی عورتوں کا مطلب یہ ہے کہ وہ عورت عقد کے وقت عمر‘ جمال ‘ مال ‘ شہر ‘ زمانہ ‘ عقل ‘ دینداری ‘ پاکدامنی ‘ ادب ‘ خوش اخلاقی میں لڑکی کے برابر ہو اور دونوں کنواری ہونے یا ثیبہ ہونے ونیز اولاد والی ہونے یا نہ ہونے میں برابر ہوں ۔

            اس کے ساتھ ساتھ اُس عورت کا شوہر تمام صفات میں اِس لڑکی کے شوہر کی طرح ہو۔

            درمختار میں ہے :  یعتبر بأخواتہا وعماتہا ، فإن لم یکن فبنت الشقیقۃ وبنت العم انتہی ومفادہ اعتبار الترتیب فلیحفظ .وتعتبر المماثلۃ فی الأوصاف ( وقت العقد سنا وجمالا ومالا وبلدا وعصرا وعقلا ودینا وبکارۃ وثیوبۃ وعفۃ وعلما وأدبا وکمال خلق ) وعدم ولد .ویعتبر حال الزوج أیضا ، ذکرہ الکمال۔(درمختار ، کتاب النکاح ، باب المھر ، مطلب فی بیان مھر المثل )

واللہ اعلم بالصواب –

سیدضیاءالدین عفی عنہ

شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ

بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ 

www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com