***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1581    حلالہ کرنے والوں پر اللہ کی لعنت
مقام : ریاض,
نام : ملیحہ خانم
سوال:    

شوہر جب اپنی بیوی کو تیسری بار طلاق دیتا ہے تو بعد میں افسوس کرتا ہے ، اور اسی لڑکی کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتے ہیں ، علماء سے اس کا حل پوچھتے ہیں ، علماء حلالہ کی صورت بتاتے ہیں کہ وہ لڑکی اُس نوجوان کے لئے اُس وقت تک حلال نہیں ہوتی جب تک کہ وہ کسی اور سے نکاح نہ کرے پھر ہم بستری کے بعد یہ دوسرا شخص اُسے طلاق دے ، طلاق کی عدت گزارنے کے بعد لڑکی پہلے شوہر سے نکاح کرسکتی ہے ، یہ مسئلہ معلوم کرنے کے بعد نوجوان حلالہ کا پروگرام طے کرتے ہیں ، بنے بنائے پروگرام کے تحت لڑکی کسی شخص سے نکاح کرتی ہے پھر اُسے طلاق دلوائی جاتی ہے ۔

مفتی صاحب ! اس طرح حلالہ کی نیت سے نکاح کرنا کیساہے ؟ شریعت میں اس کا کیا حکم ہے ؟ حدیث کے حوالہ سے جواب عنایت فرمائیں۔


............................................................................
جواب:    

تیسری طلاق کے بعد حکم شریعت یہ ہے کہ مرد وعورت ایک دوسرے کے لئے اجنبی ہوجاتے ہیں ، اور یہ طلاق شدہ عورت ‘عدت طلاق کزرجانے کے بعد کسی مناسب شخص سے نکاح کرکے خوشگوار طریقہ پر ازدواجی زندگی بسر کرے ، اگر دوسرا شوہر انتقال کرجائے یا کسی وجہ سے طلاق دے بیٹھے یا خلع کے ذریعہ علٰحدگی ہوجائے جبکہ اُن کے درمیان ازدواجی عمل ہوچکا ہو تو انتقال کی صورت میں عدت وفات اور طلاق یا خلع کی صورت میں عدت طلاق گزارنے کے بعد یہ عورت طلاق دینے والے پہلے شوہر سے اگر نکاح کرنا چاہے تو کرسکتی ہے جیساکہ ارشاد الٰہی ہے : فَاِنْ طَلَّقَھَا فَلاَ تَحِلُّ لَہٗ مِنْ بَعْدُ حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہٗ۔
ترجمہ:پھراگر شوہر بیوی کو (علٰحدہ یا ایک ساتھ تین) طلاق دیدے تو یہ اُس کے لئے حلال نہیں ہوسکتی یہاں تک کہ وہ دوسرے شوہر سے نکاح کرلے(اور وہ صحبت کے بعد انتقال کرجائے یا طلاق دیدے یا خلع کے ذریعہ علٰحدگی ہوجائے تو عدت کے بعد شوہر اول کے لئے حلال ہوسکتی ہے) ۔ (سورۃ البقرۃ:230)
اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ طے شدہ پروگرام کے تحت دوسرے شخص سے نکاح کیا جائے ۔ نکاح نباہ کے ارادہ سے کیا جاتا ہے ، طلاق کے ارادہ سے نکاح کرنا‘ مقاصدِ نکاح کے خلاف ہے اور سخت گناہ بھی ، حدیث پاک میں اس سے متعلق شدید وعید وارد ہے، جامع الاحادیث للسیوطی اور کنزالعمال میں بحوالۂ طبرانی حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تزوجوا ولاتطلقوا فان اللہ لایحب الذواقین والذواقات۔ 
ترجمہ: نکاح کیا کرو اور طلاق نہ دیا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ ذائقہ حاصل کرنے والے مردوں اور ذائقہ حاصل کرنے والی عورتوں کو پسند نہیں فرماتاجن کا مقصد نکاح قائم رکھنا نہیں ہے بلکہ وقتیہ لذت حاصل کرکے نکاح کو ختم کردینا ہے ۔ (کنز العمال ،الفصل الثانی فی الترھیب عن الطلاق ،حدیث نمبر: 27873۔ جامع الاحادیث للسیوطی،حرف التاء ،حدیث نمبر: 10729)
سنن ابوداود میں حدیث پاک ہے: عن علی رضی اللہ عنہ قال اسماعیل واراہ قد رفعہ الی النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال لعن اللّٰہ المحلل والمحلل لہ ۔ 
ترجمہ: حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے حلالہ کرنے والے اور جس کے لئے حلالہ کیا جائے دونوں پر لعنت فرمائی ہے ۔ (سنن ابوداود، کتاب النکاح ، باب فی التحلیل ، حدیث نمبر: 2076)
لہذا جو لوگ حلالہ کا پروگرام بناکر یا طلاق کی نیت سے نکاح کرتے ہیں اُنہیں خوف الٰہی کے پیش نظر اس شدید گناہ سے پرہیز کرنا چاہئے۔ واللہ اعلم بالصواب

 

سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com