***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1582    بارگاہِ الٰہی میں نیک بندوں کی سفارش
مقام : پٹنہ،انڈیا,
نام : فضلِ کریم
سوال:    

مفتی صاحب ! میں نے کسی مقام پر اولیاء کرام کی فضیلت سے متعلق سنا کہ وہ بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے اور اپنے خدمت گزاروں کو بھی جنت میں لے جائیں گے ۔ یہ بات کہاں تک درست ہے ؟ کیا ایسی کوئی حدیث پاک بھی ہے ؟ اگر یہ صحیح روایت ہو تو برائے مہربانی حوالہ کے ساتھ بیان فرمائیں


............................................................................
جواب:    

آپ نے اولیاء کرام کی فضیلت سے متعلق جو سنا ہے وہ درست اور صحیح ہے ، اور وہ دو الگ الگ روایتیں ہیں ، جیساکہ صحیح مسلم میں حدیث پاک ہے : عن سهل بن سعد أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال لیدخلن الجنۃ من أمتی سبعون ألفا أو سبعمائة ألف ، متماسکون آخذ بعضهم بعضا لا یدخل أولهم حتی یدخل آخرهم وجوههم علی صورۃ القمر لیلۃ البدر۔
ترجمہ: حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ضرور میری امت میں سے ستر ہزار یا سات لاکھ جنت میں داخل ہوں گے ، اور وہ آپس میں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ہوئے جنت میں داخل ہوں گے ، اُن میں کا پہلا شخص آخری شخص کو لئے بغیر جنت میں داخل نہ ہوگا، اور اُن کے مبارک چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح چمک رہے ہوں گے۔ (صحیح مسلم ، کتاب الایمان ، باب الدلیل علی دخول طوائف من المسلمین الجنۃ بغیر حساب ولا عذاب ، حدیث نمبر: 548)
اور سنن ابن ماجہ میں حدیث پاک ہے : عن أنس بن مالک قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یصف الناس یوم القیامۃ صفوفا فیمر الرجل من أہل النار علی الرجل فیقول یافلان أما تذکر یوم استسقیت فسقیتک شربۃ قال فیشفع لہ ویمر الرجل فیقول أما تذکر یوم ناولتک طہورا فیشفع لہ . قال ابن نمیر ویقول یا فلان أما تذکر یوم بعثتنی فی حاجۃ کذا وکذا فذہبت لک فیشفع لہ .
ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ‘ آپ نے فرمایا: حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن لوگوں (اہل جنت )کی صفیں ہوں گی ،ایک دوزخی ‘ جنتی شخص کے پاس سے گزرے گا تو اُس جنتی سے فریاد کرنے لگے گا ، اے فلاں ! کیا تمہیں یاد نہیں کہ فلاں وقت میں نے تمہیں ایک گھونٹ پانی پلایا تھا؟ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ وہ (جنتی) اس (دوزخی) کے لئے شفاعت کرے گا ، دوسرا دوزخی گزرے گا اور وہ کہے گا: کیا تمہیں یاد نہیں کہ ایک دن میں نے تمہیں وضو کرایا تھا؟ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ وہ اس کے لئے شفاعت کرے گا ۔ابن نمیر نے کہا : (ایک اور )شخص کہے گا : اے فلاں ! کیا تمہیں یاد نہیں کہ تم نے مجھے فلاں کام کے لئے بھیجا تھا‘ جو میں نے پورا کیا تھا؟ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ وہ (جنتی ) اس بات پر اس کی شفاعت کرے گا ۔ (سنن ابن ماجہ، کتاب الادب ، باب فضل صدقۃ الماء ، حدیث نمبر: 3816)
ان احادیث شریفہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں کی سفارش سے لوگ جنت میں داخل ہوں گے ؛ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ غفلت کی زندگی گزاری جائے ،اہل اسلام اور خاص طور پر محبان اولیاء پر لازم ہے کہ اولیاء کرام کی عبادتوں اور مجاہدوں کو ملحوظ رکھیں اور ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے فرائض وواجبات کا اہتمام کریں ، برے اعمال وناجائز کام اور گناہوں سے پرہیز کریں ۔ واللہ اعلم بالصواب

 

سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com