***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 284    اگر مقتدی تشہد بھول جائے تو کیا کرے؟
مقام : دہرم آباد ،انڈیا,
نام : محمدامتیاز علی ،
سوال:    

اگر مقتدی تشہد پڑھنا بھول جائے تو کیا اس کی نماز میں کچھ خلل ہوگا او راسے سجدہ سہو کرلینا چاہئیے یا نہیں؟


............................................................................
جواب:    

چونکہ مقتدی نماز میں امام کے تابع ہوتا ہے اور امام اس کی نماز کا ضامن ہوتا ہے جامع ترمذی شریف ج 1ص51 ،ابواب الصلوٰۃ میں حدیث شریف ہے ’’عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الامام ضامن ‘‘ ترجمہ:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: امام ضامن ہے ۔ اگر مقتدی سے کوئی سہوہوجائے تو اس پر سجدہ سہو لازم نہیں ہوگا،فتاوی عالمگیری ج۱ص 831 میں ہے ’’سہو المؤتم لایوجب السجدۃ ‘’ مقتدی کے سہوکی وجہ سجدہٴ سہو واجب نہ ہوگا۔ لہذا مقتدی سے سہواً تشہد چھوٹ جانے پر اس کی نمازمیں کوئی فساد واقع نہیں ہوگا او راس کی وجہ سے سجد ہ سہو بھی ضروری نہیں ۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com