***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 306    مسجد کو اپنی ضرورت کے لئے راستہ بناناکیا حکم رکھتاہے  ؟
مقام : کریم نگر اے پی انڈیا,
نام : محمدسلیم
سوال:    

مساجد اتنی وسیع بنائی جارہی ہیں کہ عمومًا مسجد کے ایک سے زائد دروازے ہوجاتے ہیں بعض لوگ اپنی ضروریات کے لئے مسجد کے ایک دروازے سے داخل ہوکر دوسرے دروازسے نکلتے ہیں کیا مسجد کو اس طرح بطورراستہ استعمال کرناجائزہے؟جواب عنایت فرمائیں۔


............................................................................
جواب:    

مساجدعبادتگاہ اورجائے نماز ہیں جوذکر الہی‘نمازاورتلاوت قرآن کے لئے تعمیر کی جاتی ہیں جیسا شرح معانی الآثار جلد 1ص 8 میں ایک طویل حدیث شریف مذکور ہے جس میں ارشاد مبارک ہے ’’... انما ھی لذکر اللہ والصلوۃ وقراء ۃ القرآن‘‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مساجد تو اللہ کے ذکر ‘ نماز اورقرآن کی تلاوت کے لئے ہی ہیں ۔لہذامسجد کو راستہ بنانا اور بغیرعذرکے مسجدمیں سے گزرنا جائز نہیں ہے ۔ اگرکوئی ضرورت اور عذرہوتو مسجد میں گزرنا جائز ہے البتہ دن میں ایک مرتبہ اس مسجد میں نماز پڑھ لے ۔فتاوی عالمگیر ی جلد1 صفحہ110 میں ہے ’’رجل یمر فی المسجد ویتخذ طریقاان کا ن بغیرعذرلایجوز وبعذر یجوز ثم اذا جاز یصلی فی کل یوم مرۃ لافی کل مرۃ‘‘ ترجمہ:کوئی مسجد میں سے گزرتا ہے اور اسکو راستہ بناتاہے تویہ بلاعذر ناجائز ہے اور عذر کے ساتھ جائز ہے پھر جب عذر اور کسی مجبوری کی بنا اس میں سے گزرنا پڑے تو ہر دن ایک مرتبہ اس مسجد میں نمازبھی پڑھے ۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com