***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 321    اقساط پرکاریاگھریلوسامان خریدنےکا حکم
مقام : سعودیہ عربیہ,
نام : سیدمحی الدین احمد
سوال:    

مفتی صاحب !میراسوال یہ ہیکہ اقساط پرکاریاگھریلوسامان یازمین جائیداد خریدنے کا کیا حکم ہے ؟


............................................................................
جواب:    

خرید وفروخت نقد قیمت کے بالمقابل ہو یا ادھا ر ،ادائی ایک مشت ہو یا قسطوں پرازروئے شرع چند شرائط کے ساتھ جائزودرست ہے، ارشاد الہی ہے: واحل اللہ البیع وحرم الربو۔ ترجمہ:اورا للہ تعالی نے خرید وفروخت کو حلال کیا اور سود کو حرام کیا۔ (سورۃ البقرۃ۔275) مذکورہ آیت کریمہ میں خرید وفروخت کے مطلق حلال فرمائے جانے کا ذکر ہے، اس اطلاق میں نقد بیع اور ادھار، ہر دوشامل ہیں خواہ قیمت یکمشت اداکی جائے یا اقساط کے طور پر۔ معاملہ نقدیا ادھار ہونے کی صورت میں قیمتوں کے درمیان فرق،اسی طرح اقساط کی مدت اور تعداد کم یا زیادہ ہونے کے اعتبار سے قیمت میں تفاوت خریدار اور فروخت کنندہ کی صوابدیدپر ہے لیکن ضروری ہے کہ ہر ایک کا معاملہ متعین طور پر الگ الگ کرلیا جائے، ونیز قسط وار قیمت ادا کرنے کی صورت میں اقساط کی تعداد اور مدت بوقت معاملہ طے کرلینا ضروری ہے تاکہ معاملہ کی نوعیت واضح ہو، البتہ معاملہ طے ہونے کے بعد مقررہ مدت تک قیمت ادانہ کرنے پر قیمت بڑھانا سود قرار پاتا ہے جو از روئے شرع ناجائز وحرام ہے، لہذا معاملہ کے وقت جو قیمت مقرر کی گئی خواہ کم ہو یا زیادہ، وہی قیمت اداکرنی چاہئے۔ منحۃ الخالق علی البحر الرائق ج5،ص280میں ہے: وفی الخانیۃ والتجنیس رجل قال لاخر بعت منک ہذا الثوب بعشرۃ علی ان تعطینی کل یوم درہما وکل یوم درہمین۔ ۔ ۔ الخ۔ بدائع الصنائع ،ج4،ص407میں ہے لامساواۃ بین النقدوالنسےئۃ لان العین خیر من الدین والمعجل اکثر قیمۃ من المؤجل۔ مذکورہ شرائط کے ساتھ اقساط پرکاریا گھریلوسامان یا زمین خریدنا ازروے شرع جائز ودرست ہے ۔ واللہ اعلم بالصواب– سیدضیاءالدین عفی عنہ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر۔ حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com