***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 366    پہلے شخص سے واپس خریدکر دوسرے کوزیادہ دام میں فروخت کرنا
مقام : Chennai,
نام : عبدالمجیب
سوال:    

میں بلڈرس کو تعمیری مٹیریل سپلائی کرتاہوں ،کبھی ایک سے زائد آڈرس ہوتے ہیں ،کئی مقامات پر ایک ہی دن میں سپلائی کا کام کبھی مکمل نہیں ہوپاتا،گاڑیاں اس وقت پر نہ ملنے کی وجہ سے کسی ایک مقام پر ہی مال دیتاہوں ،اگرکسی جگہ مال سپلائی کرنے کے بعد دوسرا آڈر آجائے اور دوسری جگہ زیادہ فائدہ ہوتاہوتو میں خودپہلی پارٹی سے گاڑی خریدکردوسری پارٹی کودیتاہوں، میں انہیں جس دام میں دیاتھااسی دام میں خریدتا ہوں ‘اگرپارٹی اسی دام میں دینے کے لئے تیارنہ ہوتومیں کچھ زیادہ دام دے کر خریدلیتاہوں۔ کیا میرایہ طریقہ صحیح ہے؟ کیا اس طرح دوسری پارٹی سے زیادہ نفع لیناحلال ہے؟


............................................................................
جواب:    

آپ نے جب پہلے شخص کوتعمیری مٹیریل کی گاڑی فروخت کی اورمعاملہ مکمل ہوچکا تو وہ شخص اس کا مالک قرارپایا، وہ چاہے تو اپنے استعمال میں لائے، چاہے توکسی کو بیچ ڈالے، اسی دام میں بیچے یا زیادہ نفع کے ساتھ بیچے، اُس شخص کواس کا اختیارہے ‘اگرآپ کے کہنے پروہ شخص اپنی رضامندی وخوشدلی کے ساتھ آپ سے خریداہوامال آپ ہی کوبیچتاہے تو ازروئے شریعت جائز ہے،مال حاصل کرنے کے لئے آپ اس شخص پراخلاقی دباؤ نہ ڈالیں ۔ اگر اس نے آپ سے گاڑی جتنے دام میں خریدی تھی اتنے ہی دام میں بیچے تواس معاملہ کواصطلاح شریعت میں تولیہ کہاجاتاہے اوراگرزیادہ دام سے بیچے تو اسے مرابحہ کہاجاتاہے ،یہ دونوں صورتیں جائز ومباح ہیں۔ اب رہا آپ دوسرے شخص کو جوزیادہ قیمت میں بیچ رہے ہیں اگراس کی قیمت بازار کی مالیت سے زیادہ ہے تویہ کراہت سے خالی نہیں‘ اگرقیمت میں اس قدراضافہ نہ ہوتویہ نفع آپ کے لئے بلاکراہت جائزودرست ہے۔ جیساکہ فتاوی عالمگیری میں ہے : المرابحۃ بیع بمثل الثمن الأول وزیادۃ ربح والتولیۃ بیع بمثل الثمن الأول من غیر زیادۃ شیء ----- ولو باع شیئا مرابحۃ إن کان الثمن مثلیا کالمکیل والموزون جاز البیع إذا کان الربح معلوما سواء کان الربح من جنس الثمن الأول أم لم یکن وإن لم یکن مثلیا کالعروض إن باعہ مرابحۃ ممن لا یملک العرض لا یجوز وإن باعہ ممن یملک ذلک العرض إن باعہ بالعرض الذی فی یدہ وربح عشرۃ جاز (فتاوی عالمگیری، ج 3،کتاب البیوع، الباب الرابع عشر فی المرابحۃ والتولیۃ والوضیعۃ،ص 160۔) واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com