***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 480    امام کے پیچھے قراءت کرنے کا حکم
مقام : حیدرآباد,
نام : سید محمد
سوال:    

مفتی صاحب کیا مقتدی کو قرات کرنا چاہئے یا نہیں ؟احادیث شریفہ کی روشنی میں بیان فرمائیں۔شکریہ جزاک اللہ


............................................................................
جواب:    

اللہ تعالی نے ہمیں اپنی رضا وخوشنودی حاصل کرنے کے لئے عبادات کے احکام دیے اور عبادات کی ادائیگی کا طریقہ اور تفصیلات اپنے حبیب کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد فرمادیا ،آپ کی حیات طیبہ کو ساری دنیا والوں کے لئے اسوہ ونمونہ قرار دیا-عبادات اسی وقت صحیح قرار پائینگے جبکہ انہیں آپ کے بتلائے ہوئے طریقہ پر ادا کیا جائے – تمام ائمہ عقائد وضروریات دین اور اصول میں متفق ہیں البتہ ان کے مابین فروعی اختلاف پایاجاتا ہے اور ہرامام کے پاس اپنے مسلک کی موافقت میں دلائل موجود ہیں، اسی لئے باوجود اختلاف کے کوئی کسی پر طعن نہیں کرتے اور آپس میں محبت وخلوص کے ساتھ رہتے ہیں- فقہ حنفی کے مطابق مقتدی ‘امام کے پیچھے قراء ت نہ کرے یہ حکم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان عالیشان اور آثار صحابۂ کرام سے ثابت ہے ۔درج ذیل روایتوں سے پتہ چلتاہے کہ لاصلوۃ الابفاتحۃ الکتاب جیسی دیگر روایات منفرد تنہا نماز پڑھنے والے کیلئے ہیں، جامع ترمذی شریف میں روایت ہے : عن جابر بن عبد اللہ قال من صلی رکعۃ لم یقر أفیہا بام القران فلم یصل الا ان یکون ورآء الامام رواہ الترمذی وقال ہذحدیث حسن صحیح وروی محمد ومالک وابن ابی شیبۃ مثلہ۔ ترجمہ:حضرت جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ جوشخص نمازمیں سورہ فاتحہ نہ پڑھے اس کی نمازنہیں ہوئی ،مگر یہ حکم اس شخص کے لئے ہے جوامام کے پیچھے مقتدی کی حالت میں نہ ہو(اسکی روایت ترمذی نے کی ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔نیزامام محمد اور مالک اور ابن ابی شیبہ نے بھی اسی طرح روایت کی ہے )( جامع ترمذی شریف ، باب ما جاء في ترك القراءة خلف الإمام إذا جهر الإمام بالقراءة:حدیث نمبر:288-زجاجۃ المصابیح،ج1،ص245) سنن نسائی،سنن جامع ترمذی ،سنن ابوداؤد ، مسند امام احمد اور زجاجۃ المصابیح، ج1،ص245 میں حدیث شریف ہے: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةٍ جَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ فَقَالَ هَلْ قَرَأَ مَعِي أَحَدٌ مِنْكُمْ آنِفًا قَالَ رَجُلٌ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنِّي أَقُولُ مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ قَالَ فَانْتَهَى النَّاسُ عَنْ الْقِرَاءَةِ فِيمَا جَهَرَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقِرَاءَةِ مِنْ الصَّلَاةِ حِينَ سَمِعُوا ذَلِكَ- رواہ النسائی والترمذی وابوداودواحمدومالک ومحمد وروی ابن ماجۃ نحوہ وقال النسائی فیہ ترک القراء ۃ خلف الامام فیماجہربہ۔ ترجمہ :حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی نمازسے جس میں قرأت جہر سے کی جاتی ہے ،فارغ ہوکر فرمایا کیا تم میں سے ابھی کوئی میرے ساتھ قرآن پڑھ رہاتھا؟ایک شخص نے عرض کیا کہ ہاں یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں پڑھ رہا تھا ،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسی لئے تو میں بھی کہہ رہا تھا کہ نماز میں میرے ساتھ قرآن کی کشائش کیوں ہورہی ہے ؟جب اس حکم کو لوگوں نے سنا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے مقتدی ہوکر جہری نمازمیں قرآن کا پڑھنا ترک کردیا (اس کی روایت نسائی ،ترمذی،وابوداود،احمد نے کی ہے،اور نسائی نے کہا ہے کہ اس حدیث میں اس بات کا ثبوت ہے کہ جس نمازمیں قرات بالجہر کی جائے اس میں مقتدی (امام کے پیچھے )قرات نہ کرے۔ (سنن نسائي،باب ترك القراءة خلف الإمام فيما جهر به، حدیث نمبر:910 –جامع ترمذی، باب من كره القراءة بفاتحة الكتاب إذا جهر الإمام، حدیث نمبر:703-مسند امام احمد، مسند أبي هريرة رضي الله عنه، حدیث نمبر:7485- زجاجۃ المصابیح،ج1،ص246) وعنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انماجعل الامام لیؤتم بہ فاذاکبرفکبر وا واذاقرٲفانصتوا-رواہ ابوداود والنسائی وابن ماجۃ وہذا حدیث صحیح وروی الطحاوی نحوہ وفی روایۃ لمسلم عن ابی ہریرۃ وقتادۃ واذاقرافانصتوا وفی اخری لہ واذاقال غیر المغضوب علیہم ولاالضالین فقولوا اٰمین ۔ ترجمہ:حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ روایت ہے انہوں نے کہا کہ حضْرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ امام اس لئے مقرر کیا گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے لہذا جب وہ اللہ اکبر کہے تو تم بھی اللہ اکبر کہو اور جب امام قراء ت کرے توتم خاموش رہو (اسکی روایت ابودؤد ،نسائی اورابن ماجہ نے کی ہے )اور یہ حدیث صحیح ہے اور طحاوی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے اور مسلم کی ایک روایت میں حضرت ابوہریرہ اور قتادہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ امام جب قرات کرے تو تم خاموش رہو اور مسلم کی ایک دوسری روایت ہے کہ امام جب غیر المغضوب علیہم ولا الضالین کہے تو تم اٰمین کہو۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com