***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 533    حالت نمازمیں جماہی کا حکم
مقام : ,
نام :
سوال:    

اگرہم نماز میں جماہی لیں تو کیا ہماری نماز صحیح ہوجائیگی؟


............................................................................
جواب:    

جماہی شیطان کی جانب سے ہوتی ہے اس لئے اللہ تعالی اس کوناپسند فرماتاہے، مشکوۃ المصابیح ص 405 میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک طویل روایت ہے جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ۔فاماالتثاؤب فانماھو من الشیطن فاذا تثاؤب احدکم فلیردہ مااستطاع فان احدکم اذاتثاؤب ضحک منه الشیطان رواہ البخاری وفی روایۃ لمسلم فان احدکم اذا قال ھا ضحک الشیطان منه ۔ ترجمہ : جماہی تو شیطان کی طرف سے ہے جب تم میں سے کسی کوجماہی آئے توجہاں تک ہوسکے اسے دفع کرے کیوں کہ جب تم میں سے کوئی جماہی لیتا ہے تو اس سے شیطان ہنستا ہے (بخاری شریف )اورمسلم شریف کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : جب تم میں سے کوئی ’’ہا‘‘کہتا ہے تو شیطان اس سے ہنستاہے ۔ یہی وجہ ہے کہ فقہاء کرام نے عمداًجماہی لینے کومکروہ قرار دیاخواہ اندرون نمازہویا بیرون نماز۔درمختارج1،کتاب الصلوۃٰ ص467/477،میں ہے: وکرہ۔ ۔ ۔ (والتثاؤب) ولوخارجھا ذکرہ مسکین لانه من الشیطان۔ حالت نماز میں چوں کہ بندہ اللہ تعالی کی جناب میں ہوتا ہے اس لئے اس کو آداب نماز کا مکمل لحاظ رکھنا چاہئے کیوں کہ جماہی کے وقت شیطان منہ میں داخل ہوتاہے ۔ مشکوۃ شریف ص 406، میں حدیث شریف ہے ،حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی جماہی لینے لگے تو اپنا ہاتھ اپنے منہ پر رکھ لے کیوں کہ شیطان منہ میں داخل ہوتا ہے ۔ اگر حالت نمازمیں جماہی آجائے تو اپنے دانت سے ہونٹوں کو پکڑکر اس کو روکنے کی مکمل کوشش کرے اگر حالت قیام میں جماہی قابوسے باہر ہوجائے اور دانت سے ہونٹ کو دباکر روکنا ممکن نہ ہوتواپنے داہنے ہاتھ کی پشت سے روکے یا آستین وغیرہ سے روکے ۔(ردالمحتارج 1ص353) علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے فتاوی ردالمحتار ج 1ص353 ،میں جماہی روکنے کی نہایت آسان اور مجرب ترکیب امام زاہدی کے حوالہ سے ذکر فرمائی ہے کہ جماہی لینے والاشخص دل میں یہ خیال کرے کہ’’ انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کوکبھی جماہی نہیں آئی‘‘ تو جماہی اس سے خود بخود دفع ہوجائے گی، امام قدوری رحمہ اللہ نے کہا کہ ہم نے اس نسخہ کابارہا تجربہ کیا توایسا ہی پایا، علامہ شامی فرماتے ہیں :میں نے بھی اس کا تجربہ کیاتو ایساہی پایا۔(ردالمحتار ج 1ص353 )(فائدۃ)رایت فی شرح تحفۃ الملوک المسمی بھدیۃ الصعلوک مانصه قال الزاھدی الطریق فی دفع التثاؤب ان یخطر بباله ان الانبیاء علیھم الصلوۃ والسلام ماتثاءبوا قط ۔ قال القدوری جربنا ہ مرار ا فوجد ناہ کذلک اھ قلت وقدجربته ایضاً فوجدته کذلک واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com