***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 563    بیوی کے لئے ہبہ کردہ مکان میں تصرف کرنا ؟
مقام : کشن باغ،انديا,
نام : محمد خالد
سوال:    

محمد مرشد صاحب نے اپنا حصۂ مکان جو کہ تینوں بھائیوں کے مابین تقسیم کے بعد ان کو حاصل ہواتھا اپنی بیوی رشیدہ بی کو اپنے حین حیات ہبہ کرکے مکمل طورپر ان کے قبضہ وتصرف میں دے د یا، تقریباً چالیس سال سے وہ اس مکان میں سکونت پذیر ہیں ،محمد مرشدصاحب لاولد انتقال کرگئے، ان کی اہلیہ رشیدہ بی اس مکان کو فروخت کرنا چاہتی ہیں ؛شرعاً کیا حکم ہے ؟


............................................................................
جواب:    

اگر واقعی صورت حال سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق ہوتو حکم شریعت یہ ہے کہ محمد مرشد صاحب نے اپنی بیوی کو اپناجو مکان ہبہ کیاتھا ازروئے شرع متین وہ ہبہ کامل اوردرست قرار پایاکیونکہ ہبہ کامل قبضہ سے تمام ہوجاتا ہے جیساکہ درمختار برحاشیۂ ردالمحتار ج 4کتا ب الھبۃ ص569 میں ہے:(وتتم ) الھبۃ (بالقبض) الکامل۔ بیوی کوہبہ کرنے کے بعد شوہر کو بھی واپس لینے کا شرعاً استحقاق نہیں رہتا اب جبکہ خاوند کا انتقال ہوچکا ہے بدرجہ اولی کسی کو اس میں کوئی اختیارواستحقاق نہیں جیسا کہ ہدایہ ج 2 ص290 کتا ب الھبۃ میں ہے: وان وہب ہبۃ لذی رحم محرم منہ لم یرجع فیہا وکذلک ماوہب احدالزوجین للاخر لان المقصود فیہاالصلۃ کما فی القرابۃ ۔ بناء بریں مذکورہ ہبہ کردہ مکان رشیدہ بی کی ملکیت ہے ، اس کو فروخت کرنے اوراس میں حسب منشاتصرف کرنے کاانہیں شرعاً اختیار ہے ۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com