***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان > غسل ،تجہیز وتکفین اور تدف

Share |
سرخی : f 576    اگرتکفین کے بعد جسم یا کفن ناپاک ہوجائے توکیاکرناچاہئے؟
مقام : ایل بی نگر ،حیدرآباد،انڈیا,
نام : محمد مشفق
سوال:     میت کو غسل دینے کے بعد کفن پہناکر نماز جنازہ پڑھی جاتی ہے لیکن غسل دینے اور کفن پہنانے کے بعد میت کے جسم سے گندگی نکلے اور جسم یا کفن ناپاک ہوجائے تو کیا کرنا چاہیئے ؟ کیا دوبارہ غسل دیا جائے ؟اور کفن کو پاک کیا جائے گا یا دوسرا کفن پہنایا جائے ؟
............................................................................
جواب:     نماز جنازہ کی دیگر شرائط میں ایک شرط میت کا پاک ہونا ہے ‘ میت کو غسل نہ دیا جائے یا ناپاک کفن پہنایا جائے تو نماز جنازہ درست نہیں ہوتی ۔اگر میت کو غسل دیا گیا اور کفن پہنایا جاچکا‘ اس کے بعد میت کے جسم سے نجاست نکل آئے اور جسم یا کفن نجاست آلود ہوجائے تودوبارہ غسل دینے یا کفن بدلنے کی ضرورت نہیں اور نہ کفن کو پاک کرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ دوبارہ غسل دینے‘ دوسرا کفن پہنانے یا اسی کفن کو پاک کرنے میں مشقت و حرج ہے اور شریعت میں حرج و مشقت کو دفع کیا گیا ہے ۔ البتہ کفن پہنانے سے پہلے جسم سے نجاست نکل کر جسم کے کسی حصہ کو لگ جائے تو اسے دور کرنا چاہیئے کیوں کہ اس میں کوئی حرج و مشقت نہیں ہے ۔
جیسا کہ ردالمحتار ج1‘ کتاب الصلوۃ‘ باب صلوٰۃ الجنائز‘ ص640 میں ہے: اذا تنجس الکفن بنجاسۃ المیت لایضر دفعا للحرج بخلاف الکفن المتنجس ابتداء ۱ھ وکذا لو تنجس بدنہ بما خرج منہ ان کان قبل ان یکفن غسل و بعد ہ لا ۔
واللہ اعلم بالصواب –
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ WWW.ZIAISLAMIC.COM
حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com