***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 582    مساجد میں پودے لگانے کاحکم
مقام : کلکتہ,
نام : محمد احمد
سوال:    

پودے لگانے کا کام مختلف مقامات پر کیاجاتا ہے‘ خاص طور پر اسکولس کالجس اور عوامی مقامات پر پودے لگانے کو ترجیح دی جاتی ہے‘ اسی طرح مساجد کے صحن میں پودے لگائے جا رہے ہیں کیا ایسا کرنے کی کچھ گنجائش ہے یا پھر مساجد میں یہ کام ممنوع ہے؟


............................................................................
جواب:    

مسجد میں شجرکاری اگر لوگوں کے فائدہ کی غرض سے کی جائے تاکہ وہ اس سے سایہ حاصل کریں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں جب کہ یہ صفوں میں تفریق کا سبب نہ بنے۔ اگر پودے لگانے کی وجہ کسی خاص فرد کو اس کے پتے اور پھلوں سے فائدہ پہنچ رہا ہو یا یہ عمل صفوں میں تفریق کا باعث ہو یا پودے ایسے مقام پر لگائے جائیں جس سے مسجد اورگرجا گھر میں مشابہت پائی جائے تو مکروہ ہے ۔ جیسا کہ فتاوی عالمگیری ج 5 ص 321 میں ہے : غرس الشجر فی المسجد ان کان لنفع الناس بظلہ و لا یضیق علی الناس و لا یفرق الصفوف لا بأس بہ و ان کان لنفع نفسہ بورقہ او ثمرہ او یفرق الصفوف او کان فی موضع یقع بہ المشابھۃ بین البیعۃ و المسجد یکرہ۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ WWW.ZIAISLAMIC.COM حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com