***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 651    کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالی کا دیدار کیا؟
مقام : مدراس ، انڈیا,
نام : شیخ علی
سوال:    

معراج کی رات ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالی کا دیدارکیا ہے یا نہیں ؟ اس سلسلہ میں ہمارے کالج کیمپس میں اسٹوڈنٹس کی گفتگوہوئی ، کافی دیربات ہوئی لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ اس لئے کہ ہمیں اس کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں اور ہمارے پاس کوئی کتاب بھی نہیں ہے ،جسے اسٹڈی کرکے ہم اطمینان حاصل کرسکیں ،اس کے علاوہ میں نے بہت سے لوگوں کو اس کاسوال کرتے ہوئے سنا۔آپ سے گزارش ہے کہ قرآن شریف کے حوالوں کے ساتھ اس کا اطمینان دلائیں کہ کیا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات اللہ تعالی کا دیدارکیا ہے یانہیں؟ شکریہ۔


............................................................................
جواب:    

: شب معراج حضور صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کے دیدار پرانوار کی نعمت لازوال سے مشرف ہوئے‘ اس کا ذکر قرآن کریم کی آیات مبارکہ میں موجود ہے چنانچہ واقعہ معراج کے ضمن میں ارشاد خداوندی ہے: مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰی۔ ترجمہ:آپ نے جو مشاہدہ کیا دل نے اُسے نہیں جھٹلایا۔ (سورۃ النجم۔11) نیز ارشاد الہی ہے: أَفَتُمَارُونَہُ عَلَی مَا یَرَی۔ ترجمہ :کیا تم ان سے بحث کرتے ہواُس پرجووہ مشاہدہ فرماتے ہیں۔ (سورۃ النجم۔12) وَلَقَدْ رَاٰہُ نَزْلَۃً أُخْرَی۔ ترجمہ:اور یقیناً آپ نے اُس جلوہ کا دومرتبہ دیدار کیا ۔ (سورۃ النجم۔13) مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَی۔ ترجمہ:نہ نگاہ ادھر اُدھر متوجہ ہوئی اور نہ جلوۂ حق سے متجاوز ہوئی ۔ (سورۃ النجم۔17) یعنی آپ کی نظرسوائے جمال محبوب کے کسی پرنہ پڑی ۔ لَقَدْ رَاٰی مِنْ آیَاتِ رَبِّہِ الْکُبْرَی۔ ترجمہ:بیشک آپ نے اپنے رب کی نشانیوں میں سب سے بڑی نشانی (جلوۂ حق) کامشاہدہ کیا۔ (سورۃ النجم۔18) امام بخاری کے دادا استاذ حضرت عبدالرزاق صنعانی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 211؁ھ) نے اپنی تفسیر میں رقم فرمایاہے: کان الحسن یحلف باللہ ثلاثۃ لقد رای محمد ربہ۔ ترجمہ: حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ تین باراللہ تعالی کی قسم ذکرکرکے فرمایاکر تے تھے کہ یقینا سیدنا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے رب کا دیدار کیا۔ (تفسیرالقران لعبد الرزاق، حدیث نمبر2940) نیز اسی طرح کی تفسیر‘ ائمۂ تفسیر امام ابن ابی حاتم رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 327 ھ) ابومحمد الحسین بن مسعو د بغوی (متوفی 510ھ) علامہ جمال الدین ابن الجوزی (متوفی 597ھ) امام فخرالدین رازی رحمۃ اللہ علیہ (وصال 606 ھ) علامہ عبدالعزیز بن عبدالسلام دمشقی(متوفی660ھ) امام ابوعبداللہ محمدبن احمد قرطبی(متوفی 671ھ) امام علاء الدین خازن رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 741 ھ) ابوزید عبدالرحمن ثعلبی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 876ھ) حضرت سلیمان الجمل رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 1204ھ) علامہ شیخ احمد بن محمد صاوی مالکی رحمۃ اللہ علیہ (وصال 1241ھ) امام سیوطی (وصال 911ھ) اپنی کتب تفسیر میں لکھی ہیں۔ سورۃ النجم کی آیت13کی تفسیر کے تحت روایتوں میں یہ بھی مذکور ہے کہ حضورپاک صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے سدرۃ المنتھی کے پاس جبرئیل علیہ السلام کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا۔ لیکن آپ کا سفر وہیں منتہی نہیں ہوا‘ آپ سدرہ سے آگے تشریف لے گئے‘ ماورائِ عرش پہنچے‘ اللہ تعالی کے قرب سے مالامال ہوئے اور اپنے ماتھے کی آنکھوں سے اللہ تعالی کا دیدارفرمایا۔ واللہ اعلم بالصواب سید ضیاء الدین عفی عنہ شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ وبانی ابوالحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر www.ziaislamic.com حیدرآباد ، دکن ،انڈیا

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com