***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 652    احادیث شریفہ سے دیدار الہی کا ثبوت
مقام : تیگل کنٹہ ،انڈیا,
نام : نعیم الدین شاکر
سوال:    

جب شب معراج قریب آتی ہے تو لوگوں میں دیدار الہی کے بارے میں کچھ نہ کچھ گفتگو ضرور ہوتی ہے‘ لیکن یہ ایسی باتیں نہیں کہ لوگ بیٹھے بیٹھے کوئی فیصلہ کرلیں‘ میں بخاری مسلم اور صحیح حدیث کی کتابوں کے ذریعہ یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات اپنے رب کو دیکھا ہے؟


............................................................................
جواب:    

کتب صحاح وسنن‘ معاجم ومسانید میں اس سے متعلق متعدد روایتیں موجود ہیں‘ چنانچہ صحیح بخاری‘ مستخرج أبی عوانۃ اور جامع الأصول من أحادیث الرسول لابن الاثیر حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت منقول ہے: وَدَنَا الْجَبَّارُ رَبُّ الْعِزَّۃِ فَتَدَلَّی حَتَّی کَانَ مِنْہُ قَابَ قَوْسَیْنِ أَوْ أَدْنَی۔ ترجمہ: اور اللہ رب العزت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قرب عطا کیا ،مزیداور قرب عطا کیا ‘یہاں تک کہ آپ کے اور اُس جلوہ کے درمیان دو کمانوں کا فاصلہ رہا بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب ہوئے ۔ (صحیح بخاری شریف، کتاب التوحید،باب قَوْلِ اللہِ ( وَکَلَّمَ اللَّہُ مُوسَی تَکْلِیمًا). حدیث نمبر:7517۔ مستخرج أبی عوانۃ،کتاب الإیمان،مبتدأ أبواب فی الرد علی الجہمیۃ وبیان أن الجنۃ مخلوقۃ، حدیث نمبر:270۔ جامع الأصول من أحادیث الرسول لابن الاثیر،کتاب النبوۃ، أحکام تخص ذاتہ صلی اللہ علیہ وسلم، اسمہ ونسبہ، حدیث نمبر:8867) صحیح مسلم‘صحیح ابن حبان ‘مسندابویعلی ‘جامع الاحادیث ‘الجامع الکبیر‘مجمع الزوائد ‘کنزل العمال‘مستخرج ابوعوانہ میں حدیث پاک ہے: عن عبداللہ بن شقیق قال قلت لابی ذر لو رایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لسالتہ فقال عن ای شیء کنت تسالہ قال کنت اسالہ ھل رایت ربک قال ابو ذر قد سالت فقال رایت نورا۔ ترجمہ: حضرت عبداللہ بن شقیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا! اگر مجھے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دیدار کی سعادت حاصل ہوتی تو ضرورحضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرتا، انہوں نے فرمایا تم کس چیز سے متعلق دریافت کرتے؟ حضرت عبداللہ بن شقیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دریافت کرتا کہ کیا آپ نے اپنے رب کا دیدارکیا ہے؟ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلہ میں دریافت کیا تھا‘توحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میں نے نورِحق کودیکھاہے۔ (صحیح مسلم،کتاب الإیمان،باب فِی قَوْلِہِ عَلَیْہِ السَّلاَمُ نُورٌ أَنَّی أَرَاہ.وَفِی قَوْلِہِ رَأَیْتُ نُورًا.حدیث نمبر:462۔مستخرج أبی عوانۃ،کتاب الإیمان، حدیث نمبر:287۔صحیح ابن حبان،کتاب الإسراء ،ذکر الخبر الدال علی صحۃ ما ذکرناہ ،حدیث نمبر:58۔جامع الأحادیث،حرف الراء ،حدیث نمبر:12640۔جمع الجوامع أو الجامع الکبیر للسیوطی، حرف الراء ، حدیث نمبر:12788۔مجمع الزوائد،حدیث نمبر:13840۔مسند أبی یعلی، حدیث نمبر:7163۔کنز العمال،حرف الفاء ،الفصل الثانی فی المعراج، حدیث نمبر:31864) صحیح مسلم‘مسنداحمد‘صحیح ابن حبان ‘مسندابویعلی ‘معجم اوسط طبرانی ‘جامع الاحادیث ‘الجامع الکبیر ‘کنزل العمال‘مستخرج ابوعوانہ میں حدیث پاک ہے : عن ابی ذر سألت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہل رأیت ربک؟ قال نور اِنِّی اَرَاہ۔ ترجمہ: حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ‘میں نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا !کیا آپ نے اپنے رب کا دیدار کیا؟ فرمایا: وہ نور ہے ‘بیشک میں اس کا جلوہ دیکھتا ہوں۔ (صحیح مسلم ، کتاب الایمان ،باب نورانی اراہ ،حدیث نمبر:461،مسند احمد، مسند ابی بکر حدیث نمبر:21351!21429) اس حدیث شریف میں بھی صراحت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حق تعالی کا دیدار کیا‘ صحابہ کرام نے عرض کیا: کیاآپ نے رب کا دیدار کیا ؟ جواباًارشاد فرمایا: نُورَانِیُُّ اَرَاہُ ترجمہ :وہ ذات نور ہے ‘ میں اس کا جلوہ دیکھتا ہوں۔ (2) فقال نورا اَنّٰی اَرَاہ ۔ترجمہ : میں نے جس شان سے دیکھاوہ نورہی نورہے ۔ (مسنداحمد ،حدیث نمبر:22148۔ طبرانی معجم اوسط،حدیث نمبر:8300،مسنداحمد ،حدیث نمبر:21537۔جامع الأحادیث للسیوطی،حرف الراء ،حدیث نمبر:12640۔ صحیح ابن حبان،کتاب الإسراء ، حدیث نمبر:255)أما قولہ صلی اللہ علیہ و سلم نور أنی أراہ فہو بتنوین نور وبفتح الہمزۃ فی أنی وتشدید النون وفتحہا وأراہ بفتح الہمزۃ ہکذا رواہ جمیع الرواۃ فی جمیع الاصول والروایات ۔ ۔ ۔ (رأیت نورا ) معناہ رأیت النور فحسب ولم أر غیرہ قال وروی نورانی أراہ بفتح الراء وکسر النون وتشدید الیاء ویحتمل أن یکون معناہ راجعا إلی ما قلناہ أی خالق النور المانع من رؤیتہ فیکون من صفات الافعال ۔ (شرح صحیح مسلم‘ کتاب الایمان) واللہ اعلم بالصواب سید ضیاء الدین عفی عنہ شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ وبانی ابوالحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر www.ziaislamic.com حیدرآباد ، دکن ،انڈیا

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com