***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 664    اپنی اہلیہ کے ساتھ نماز باجماعت پڑھنے کا حکم
مقام : کٹل منڈی ، انڈیا,
نام : محمد عبدالسلام
سوال:    

میرے گھر میں ‘میں اور میری اہلیہ کے علاوہ کوئی نہیں رہتے ‘ کبھی کبھی نماز کے لئے پہنچنے تک جماعت چھوٹ جاتی ہے ۔ کیا اس وقت میں گھر میں اپنی اہلیہ کے ساتھ باجماعت نماز پڑھ سکتا ہوں؟


............................................................................
جواب:    

نماز جماعت کے ساتھ مقرر و مشروع کی گئی ہے۔ نماز کی فرضیت کے بعد سب سے پہلے جو نماز پڑھی گئی وہ جماعت کے ساتھ ہی پڑھی گئی ۔ جماعت کی اس قدر اہمیت و فضیلت کے پیش نظر اصولیین و فقہاء کرام نے مسجد میں باجماعت نماز ادا کرنے کو ادائے کامل کہا اور جماعت کے بغیر نماز ادا کرنے کو ادائے قاصر قرار دیا ۔ لہذا مسجد میں باجماعت نماز ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے ۔ جہاں تک مذکورہ در سوال مسئلہ کا تعلق ہے کسی وقت مسجد میں جماعت فوت ہوجائے تو زوجین گھر میں باجماعت نماز ادا کرسکتے ہیں ۔ ایسی صورت میں شوہر امامت کرے گا اور بیوی اقتداء کرے گی ‘ بیوی کو شوہر کے پیچھے اس طرح کھڑا رہنا چاہئے کہ اس کا پیر شوہر کے پیر کے پیچھے ہو ‘اگر بیوی شوہر کے قدم کے برابر قدم رکھ کر نماز پڑھے تو اس کی اقتداء درست نہیں ہوگی اور شوہر و بیوی دونوں کی نماز فاسد ہوگی ۔ ردالمحتار ج 1ص 423میں ہے : المرأۃ اذا صلت مع زوجھا فی البیت ان کان قدمھا بحذاء قدم الزوج لا تجوز صلاتھا بالجماعۃ و ان قدماھا خلف قدم الزوج الا انھا طویلۃ ۔ تقع رأس المرأۃ فی السجود قبل رأس الزوج جازت صلاتھما بالجماعۃ لان العبرۃ للقدم ۔ ترجمہ : عورت جب گھر میں اپنے شوہر کے ساتھ (اس کی اقتداء میں ) نماز ادا کرے اور اس کا قدم شوہر کے قدم کے مقابل اور برابر ہے تو دونوں کی نماز درست نہیں اور اگر بیوی کے دونوں قدم شوہرکے قدم سے پیچھے ہوں تو دونوں کی نماز باجماعت درست ہے اور اگر بیوی دراز قد کی ہو جس کی وجہ سے سجدہ میں اس کا سر شوہر کے سر کے آگے ہوجائے تو کوئی حرج نہیں کیونکہ یہاں قدموں کا اعتبار ہے ۔ مذکورہ بالا صراحت کی روشنی میں کسی وجہ سے آپ سے جماعت فوت ہوجائے تو اپنی اہلیہ کے ساتھ گھر میں باجماعت نماز ادا کرسکتے ہیں ۔ تاہم آپ مسجد میں باجماعت نماز ادا کرنے کی کوشش کریں کیونکہ مرد حضرات کے لئے جماعت کے ساتھ مسجد میں نماز ادا کرنا بہرحال سنت موکدہ ہے۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شيخ ‏
الفقه جامعه ونظاميه باني در ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com