***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 667    مقتدی کا آواز سے تکبیر کہنا ؟
مقام : بیدر، انڈیا,
نام : حفیظ الرحمن
سوال:    

بعض لوگ امام صاحب کے ساتھ آواز سے تکبیر کہتے ہیں‘ با جماعت نماز ادا کرتے وقت نمازیوں کا آواز سے تکبیر کہنا کیسا ہے؟


............................................................................
جواب:    

اذکار نماز کا جہاں تک مسئلہ ہے اس بارے میں فقہاء کرام نے صراحت فرمائی کہ اسمیں اصل یہ ہے کہ انہیں سرّی طورپر ﴿آہستہ﴾پڑھنا چاہئے ،البتہ باجماعت نماز ادا کرتے وقت تکبیر تحریمہ و تکبیرات انتقالیہ جہر سے کہنا مسنون قرار دیا گیا ہے، اس سے دراصل مقتدیوں کو ایک رکن سے دوسرے رکن کی طرف منتقل ہونے سے باخبر کرنا مقصود ہے۔ لہذا مقتدی کے لئے اور تنہا نماز ادا کرنے والے کے لئے آواز سے تکبیر کہنے کی کوئی وجہ نہیں، اس لئے ان کے حق میں تکبیر وغیرہ آہستہ کہنا مسنون قرار دیا گیا ہے۔ جیسا کہ ملک العلماء علامہ کاسانی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تالیف بدائع الصنائع‘ ج 1سنتوں کے بیان ص 466 پر رقم فرمایا ہے۔ وَمِنْهَاأَنَّ الْإِمَامَ يَجْهَرُ بِالتَّكْبِيرِ وَيُخْفِي بِهِ الْمُنْفَرِدُ وَالْمُقْتَدِي ؛ لِأَنَّ الْأَصْلَ فِي الْأَذْكَارِ هُوَ الْإِخْفَاءُ وَإِنَّمَا الْجَهْرُ فِي حَقِّ الْإِمَامِ لِحَاجَتِهِ إلَى الْإِعْلَامِ ....... وَلَا حَاجَةَ إلَيْهِ فِي حَقِّ الْمُنْفَرِدِ وَالْمُقْتَدِي. ترجمہ : نماز کی سنتوں میں یہ ہے کہ تکبیر کو امام آواز سے کہے اور تنہا نماز پڑھنے والا اورمقتدی سری طورپر کہے اس لئے کہ اذکار میں اصل آہستہ پڑھنا ہے۔ مقتدیوں کو بتلانے کی ضرورت کی وجہ سے امام کے لئے جہر سنت ہے اور منفرد اور مقتدی کو اسکی ضرورت نہیں۔ بنا بریں مقتدی حضرات تکبیرات آواز سے نہ کہیں بلکہ جس طرح تسبیحات اور دیگر اذکار آہستہ پڑھتے ہیں تکبیرات بھی اسی طرح کہیں۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com