***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 689    ماہ رمضان کے روزے کب فرض ہوئے؟
مقام : انڈیا,
نام : نعیم الدین
سوال:    

مفتی رمضان کی آمد آمد ہے ،جیسے ہی رمضان آتا ہے خوشیوں کا ماحول ہرطرف چھاجاتاہے ،میں یہ جانناچاہتاہوں کہ ہمارے لئے روزہ رکھنے کا حکم کب دیاگیا؟ کیا اس کی صراحت ہمیں ملتی ہے ؟ برائے مہربانی اس کا جواب ضروردیں ۔


............................................................................
جواب:    

روزہ اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک عظیم رکن ہے ،اللہ تعالی نے امت محمد یہ صلی اللہ علیہ وسلم پرہجرت کے دوسرے سال رمضان کے روزوں کو فرض کیاہے ۔جیساکہ سبل الہدی والرشادمیں ہے :وفی السنۃ الثانیۃ فرض شہر رمضان۔ (سبل الہدی والرشاد،جماع ابواب سیرتہ صلی اللہ علیہ وسلم فی الصوم والاعتکاف، الباب السادس فی صومہ صلی اللہ علیہ وسلم التطوع) اور سورۂبقرہ کی آیت نمبر 183 میں ارشاد ربانی ہے :یاایھا الذین اٰمنوا کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقون۔ ترجمہ : اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کئے گئے جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔(سورۃ البقرہ ۔ 183) سورۂ بقرہ کی ایک اور آیت مبارکہ میں ہے ۔ شہر رمضان الذی انزل فیہ القرآن ھدی للناس وبینٰت من الھدی والفرقان فمن شھد منکم الشہر فلیصمہ۔(سورۃ البقرہ ۔ ) ترجمہ:ماہ رمضا ن وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا اس حال میں کہ وہ لوگوں کے لئے ہدایت ہے اور اس میں حق و باطل میں تمیز پیدا کرنے والی روشن دلیلیں ہیں ، تم میں سے جو کوئی اس مہینہ کو پائے وہ اس کے روزہ رکھے۔ واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com