***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 705    بحالت روزہ حلق میں دھواں چلا جائے؟
مقام : انڈیا,
نام : سید الیاس بختیار
سوال:    

شہر میں گاڑیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے صوتی اور فضائی آلودگی شہر کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے متعلقہ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے سخت قوانین نافذ کرنے کے باوجود بعض گاڑیوں سے کافی دھواں نکلتا ہے اگر یہ دھواں حالت روزہ میں روزہ دار شخص کے منہ میں چلا جائے تو کیا اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا؟


............................................................................
جواب:    

دھواں خواہ گاڑیوں سے نکلا ہو یا اور کوئی دھواں ہو، اگر کسی روزہ دار شخص کے منہ میں بلا قصد و بے اختیار چلا جائے تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا ۔ فتاوی عالمگیری ج 1ص 203میں ہے :وَلَوْ دَخَلَ .... أَوْ الدُّخَانُ أَوْ مَا سَطَعَ مِنْ غُبَارِ التُّرَابِ بِالرِّيحِ أَوْ بِحَوَافِرِ الدَّوَابِّ ، وَأَشْبَاهِ ذَلِكَ لَمْ يُفْطِرْهُ كَذَا فِي السِّرَاجِ الْوَهَّاجِ . ترجمہ: دھواں اور ہوا سے یا جانوروں کے کھروں سے اڑنے والی گرد وغبار اور اس جیسی چیزیں اگر روزہ دار کے حلق میں داخل ہوجائیں تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا کیونکہ اس سے بچنا ممکن نہیں ہے۔ لہٰذا گاڑیوں سے نکلنے والا یہ دھواں اگر بلا قصد و ارادہ کسی طرح روزہ دار کے منہ میں چلا جائے تو اس سے روزہ فاسد نہیں ہوگا۔ واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com