***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 719    کیا مہر کی رقم پربھی زکوٰة ضروری ہے؟
مقام : دبئی,
نام : غلام جیلانی
سوال:    

السلام علیکم و رحمۃ اللہ ! کیا عورتوں کو اپنے مہر کی رقم پر زکوٰۃ دینا چاہئے (مثلاً وہ رقم یا اشیاء جو ان کے خاوند کی جانب سے بطور مہر ادا کی جائیں؟ برائے کرم مہربانی فرماکر وضاحت فرمائیں کہ مہر کی رقم پر زکوٰۃ کون ادا کرے؟


............................................................................
جواب:    

ادا کیا گیا مہر سونا‘ چاندی یا رقم کی شکل میں ہو اور اس کی مقدار 60 گرام 755 ملی گرام سونا یا 425 گرام 285 ملی گرام چاندی ہو یا اس کی مالیت کے برابر ہو تو ایک سال گزرنے پر زکوٰۃ کی ادائیگی کے لئے اس کا چالیسواں حصہ ادا کرنا فرض ہے‘ چونکہ ادا کیا گیا مہر عورت کی ملکیت ہوتا ہے‘ لہٰذا اس کی زکوٰۃ عورت پر ہی فرض ہے‘ اگر شوہر زکوٰۃ کی ادائیگی کے لئے رقم عورت کو دے تو اس رقم سے زکوٰۃ ادا کی جاسکتی ہے اور اگر شوہر رقم نہ دے تو عورت کسی طریقہ سے زکوٰۃ ادا کرے‘ کوئی طریقہ کار نہ ہو تو اسی رقم یا زیور سے زکوٰۃ ادا کرے۔ واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com