***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 73    كتا پالنے کا شرعی حکم
مقام : دمام,
نام : محمد اکرم علی
سوال:    

کيا هم كتا پال سكتے هيں؟ اصحاب كهف نے بھي كتا پالا تها اور ايك ولي كے ساتھ بھي كتا تھا، اس بنا پر هم كتا پال سكتے هيں يا نهيں؟ برائے مهرباني جواب عنايت فرمائيں


............................................................................
جواب:    

احادیث شریفہ میں صراحت مذکور ہے کہ جو شخص كتا رکھتا ہےاس كے اعمال سے اجر وثواب روزانه گھٹتا رهتا ہے جیساکہ جامع ترمذی شریف ج1 میں حديث پاك ہے: حديث نمبر1409 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ اتَّخَذَ كَلْبًا إِلَّا كَلْبَ مَاشِيَةٍ أَوْ صَيْدٍ أَوْ زَرْعٍ انْتَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ- ترجمه: سيدنا ابوهريرة رضي الله عنه سے روايت هيكه حضرت نبي اكرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمايا: جس نے مویشیوں کی حفاظت ، شکار اور كھيتي کی حفاظت كے كتے كے سوا كتا ركھا اس كے نامه اعمال سے هر روز ايك قيراط ثواب كم هوجاتا هے- بنا بریں محض شوق کے طور پر کتوں کو پالنا جائز نہیں ہے ، البتہ مویشیوں کی حفاظت ، گھر کی رکھوالی اور شکار کی غرض سے کتا پالیں تو شرعا جائز ہے – جیساکہ رد المحتار على "الدر المختار ج4، ص239 ميں هے ( قَوْلُهُ لَا يَنْبَغِي اتِّخَاذُ كَلْبٍ إلَخْ ) الْأَحْسَنُ عِبَارَةُ الْفَتْحِ ، وَأَمَّا اقْتِنَاؤُهُ لِلصَّيْدِ وَحِرَاسَةِ الْمَاشِيَةِ وَالْبُيُوتِ وَالزَّرْعِ ، فَيَجُوزُ بِالْإِجْمَاعِ لَكِنْ لَا يَنْبَغِي أَنْ يَتَّخِذَهُ فِي دَارِهِ إلَّا إنْ خَافَ لُصُوصًا أَوْ أَعْدَاءً- اصحاب کھف کے ساتھ جو کتا ہولیا وہ بھی حفاظتی نوعیت کا تھا ، جیساکہ قرآن کریم نے فرمايا: وَكَلْبُهُمْ بَاسِطٌ ذِرَاعَيْهِ بِالْوَصِيدِ- ترجمہ: اور ان کا کتا صحن میں اپنی کلائیوں کو پھیلائے بیٹھا ہے۔ اس کے مذکورہ وصف کی طرف اشارہ ہے۔ واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com