***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 761    نماز مغرب سے متعلق ایک مسئلہ
مقام : ,
نام : عبدالرحمن سلیم
سوال:    

مغرب کی نماز میں اگر کسی شخص سے دور رکعت چھوٹ جائیں اور وہ تیسری رکعت میں شریک ہوتو وہ باقی دور کعتوں میں دوقعدے کرے یا ایک قعدہ؟ شرعی حکم بیان فرمائیں۔


............................................................................
جواب:    

اگر کسی شخص سے نماز مغرب کی دو رکعتیں فوت ہوجائیں اور وہ تیسری رکعت میں شریک جماعت ہو تو مابقي دونوں رکعتوں میں قعدہ کرے، دوسری رکعت میں قعدہ اولیٰ کی حیثیت سے اور تیسری میں قعدہ اخیرہ کی حیثیت سے , اسطرح اُس کے لئے مغرب کی تینوں رکعتوں میں قعدہ ہوگا۔ جیساکہ فتاوی عالمگیری ج1 ص 19 میں ہے: (منھا) انہ یقضی اول صلوتہ فی حق القرأۃ واٰخرھافی حق التشھد حتی لو ادرک رکعۃ من المغرب قضی رکعتین و فصل بقعدۃ فیکون بثلاث قعدات و قرأ فی کل فاتحۃ و سورۃ ترجمہ : مسبوق کے احکام میں سے یہ ہے کہ وہ (امام صاحب سلام پھیرنے کے بعد) قراء ت کے اعتبار سے ابتدائی رکعتیں پڑھے گا (یعنی قراء ت کرے گا) اور تشہد کے اعتبار سے آخری رکعتیں ادا کرے گا(یعنی تشہد پڑھے گا). اگرکوئی شخص مغرب کی ایک رکعت پائے تو (امام صاحب سلام پھیرنے کے بعد) دورکعت اداکرے او ر دورکعتوں کے درمیان قعدے سے فصل کرے تو تین قعدے ہوں گے اور بقیہ دونوں رکعتوںمیں سورۂ فاتحہ پڑھے اور ضم سورہ کرے۔ واللہ اعلم بالصواب ۔ سیدضیاءالدین عفی عنہ ، نائب شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com