***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 878    اذان کے بعد مسجد سے نکلنے کا حکم
مقام : ,
نام :
سوال:    

ہمارے پاس لوگوں کے درمیان اذان ہونے کے بعد مسجد سے نکلنے کے متعلق گفتگوہوئی بعض لوگ کہہ رہے ہیں کہ اذان ہونے کے بعد مسجد سے نکلنے میں کو ئی حرج نہیں، میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ وہ کونسی صو رتیں ہیں جس میں اذان کے بعد مسجد سے نکلنا جائزہے اور وہ کونسی صو رتیں ہیں جن میں اذان کے بعد مسجد سے نکلنا جائزنہیں ہے؟ صحیح مسئلہ سے آگاہ فرمائیں، مہربانی ہوگی۔


............................................................................
جواب:    

جس مسجد میں اذان ہوچکی ہواس مسجد سے اگر کوئی شخص نکلتا ہے تو اس سلسلہ میں درج ذیل تفصیلی صورتیں ہوتی ہیں : (1) اذان کے بعد مسجد سے نکلنے والا کسی دوسری مسجدکا امام یاموذن ہے ۔ (2) وہ محلہ کی مسجد کا موذن یا امام نہ ہولیکن اپنے محلہ کی مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے جارہا ہے جبکہ وہاں نماز نہ ہوئی ہو۔ (3)اپنے استاذ کی مسجد میں نمازاداکرنے اورشریک درس ہونے یا وعظ سننے کے لئے جارہاہے۔ (4)یاکسی اورضرورت کی وجہ سے جارہا ہے بشرطیکہ واپس آکرباجماعت نماز اداکرنے کاارادہ رکھتاہو تو ان تمام صورتوں میں اذان کے بعد مسجد سے نکلنا درست ہے۔ اوراگر ظہریا عشاء کی اذان کے بعد نکلنا چاہے جبکہ وہ اس نمازکو پڑھ چکا ہو تو مسجد سے نکل سکتا ہے البتہ اقامت شروع ہوچکی تو اذان کے بعد مسجد سے نہ نکلے بلکہ نفل کی نیت سے جماعت میں شریک ہوجائے کیونکہ ایسی صورت میں مسجد سے نکلنا مکروہ ہے۔ اگر فجر، عصراور مغرب کاوقت ہواوروہ مذکورہ نماز پڑھ چکا تو اقامت ہویا نہ ہوبہرطور مسجد سے نکلنا بغیر کراہت کے جائز ہے ۔ اگراس نے نماز نہ پڑھی کہ اذان ہوجائے او رمسجد سے نکلنے کاکوئی عذر نہیں ہے تو کسی بھی نماز کا وقت ہو، اسے چاہئے کہ مسجد میں ٹہرارہے اور جماعت میں شریک ہوجائے، کیو نکہ ایسی صورت میں بغیر نماز پڑھے مسجدسے نکلنامکروہ تحریمی ہے۔ سنن ابن ماجہ شریف، ابواب الاذان ص53میں حدیث مبارک ہے: عن عثمان قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من ادرکہ الاذان فی المسجد ثم خرج لم یخرج لحاجۃوھو لایریدالرجعۃ فھومنافق۔ ترجمہ:حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :جو شخص مسجد میں اذان کو سنے پھر وہ مسجد سے نکلے اور اسکا نکلنا کسی حاجت سے نہ ہو پھر واپس آنے کا ارادہ بھی نہ ہو تو وہ منافق ہے ۔ درمختار، کتاب الصلوۃ، باب ادراک الفریضۃ میں ہے: (وکرہ)تحریماللنھی( خروج من لم یصل من مسجد اذن فیہ)جری علی الغالبو المراد دخول الوقت اذن فیہ أولا( الالمن ینتظم بہ امر جماعۃ اخری) اوکان الخروج لمسجد حیہ ولم یصلوافیہ اولا ستاذہ لدرسہ اولسماع الوعظ او لحاجۃ ومن عزمہ ان یعودنھر (و)الا(لمن صلی الظہر و العشائ) وحدہ( مرۃ) فلا یکرہ خروجہ بل ترکہ للجماعۃ (الاعند )الشروع فی(الاقامۃ )فیکرہ لمخالفۃ الجماعۃ بلاعذر بل یقتدی متنفلا لمامر(و)الا(لمن صلی الفجرو العصر والمغرب مرۃ ) فیخرج مطلقا (وان اقیمت)۔ واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com