***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 881    طلاق کے وقت بیوی کے نام میں غلطی
مقام : امیرپیٹ،انڈیا,
نام : محمد اعجاز اللہ
سوال:    

ہمارے عزیزوں میں ایک صاحب کا ان کی اہلیہ سے جھگڑاہوا انہوں نے غصہ میں کہہ دیا فرحانہ! طلاق، دفع ہوجاؤ جبکہ ان کی اہلیہ کا نام فرزانہ ہے غصہ ٹھنڈا ہونے کے بعد جب ان سے کہا گیا کہ آپ نے طلاق دیتے وقت اپنی اہلیہ کا نام نہیں کہا۔ دوسرا نام کہا۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ میں اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہتا تھا اگر شرعی اعتبار سے طلاق نہیں ہوتی تو اچھا ہے ورنہ میں رجوع کرلوں گا۔ برائے کرم شرعی حکم بتلائیں کہ بیوی کے نام کے بجائے دوسرا نام ذکر کیا جائے تو طلاق ہوتی ہے یا نہیں؟


............................................................................
جواب:    

خرید وفروخت، ہبہ، اجارہ، نکاح، طلاق اور دیگر معاملات میں زبان سے ادا کئے جانے والے الفاظ کا اعتبار ہے دل کے ارادہ کا نہیں۔ لیکن معاملات کے بعض مسائل میں نیت و ارادہ کا اعتبار کیا جاتا ہے اگرچہ زبان سے خطاً و سھواً کوئی اور لفظ کہہ دیا جائے۔ ان مسائل میں ایک مسئلہ یہ ہے کہ شوہر اپنی بیوی کو طلاق دینے کا ارادہ کرے اور غلطی سے بیوی کے نام کے بجائے دوسرا نام کہہ دے، اس صورت میں نیت کے مطابق طلاق واقع ہوجائے گی، الفاظ کا اعتبار نہ ہوگا۔ جیسا کہ البحرالرائق ج3 کتاب الطلاق صفحہ 442 میں ہے :رجل قال امرأتہ عمرۃ بنت صبیح طالق وامرأتہ عمرۃ بنت حفص ولا نیۃ لہ لا تطلق امرأتہ ۔ ۔ ۔ وإن نوی امرأتہ فی ہذہ الوجوہ طلقت قضاء ودیانۃ۔ جیسا کہ سوال میں مذکور ہے وہ صاحب نے اپنی اہلیہ فرزانہ کا نام کہنے کے بجائے ریحانہ کہہ دیا مگر انہوں نے اپنی اہلیہ کو طلاق دینے کے ارادہ سے یہ الفاظ کہے، لہٰذا ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی۔ اگر وہ رجوع کرنا چاہتے ہیں تو عدت گذرنے سے پہلے رجوع کرسکتے ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com