***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 914    ماہواری میں حافظہ لڑکیوں کی تلاوت کا حکم
مقام : سعیدآباد،انڈیا,
نام : سمیہ بتول
سوال:    

میں حفظ قرآن کریم کے ایک مدرسہ میں پڑھتی ہوں، میں نے مدرسہ میں دیکھا کہ کچھ لڑکیاں ماہواری میں بھی تلاوت کررہی ہیں ۔ میں نے انہیں منع کیا اور کہا کہ لڑکیاں ان دنوں میں تلاوت نہیں کرسکتیں تو ان لڑکیوں نے کہا کہ ہم نے سنا کہ قرآن کو ہاتھ لگائے بغیر صرف زبان سے تلاوت کرسکتے ہیں ۔ شریعت مطہرہ میں اس کا کیا حکم ہے ؟ واضح فرمائیں، مہربانی ہوگی۔


............................................................................
جواب:    

شریعت اسلامیہ میں عورت کے لئے اس کے ایام میں جس طرح نماز ادا کرنا اور روزہ رکھنا ناجائز رکھا گیا، اسی طرح قرآن کریم کو چھونے اور تلاوت کرنے کو بھی ممنوع قرار دیا گیا خواہ زبانی تلاوت کرے یا دیکھ کر کرے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حائضہ عورت اور جنبی کو قرآن کریم کی تلاوت کرنے سے منع فرمایا ۔ چنانچہ جامع ترمذی ج 1ص 34 میں حدیث پاک ہے: عن ابن عمر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال لا تقرأ الحائض ولاالجنب شیئا ً من القرآن ۔ ترجمہ: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے ارشاد فرمایا حائضہ عورت اور جنبی قرآن کریم کی تلاوت نہ کرے۔ جو لڑکیاں ایام میں تلاوت کررہی ہیں ان کا یہ عمل شریعت کی رو سے گناہ قرار پاتا ہے ، انہیں ایام میں تلاوت کرنے سے گریز کرنا چاہئے ۔ لہذا آپ کا ان لڑکیوں کو ایام میں تلاوت کرنے سے روکنا حکم شریعت کے مطابق ہے ۔ والدہ اور معلمہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ لڑکیوں کی تربیت کریں ، انہیں ان کے احکام کی تعلیم دیں اور مسائل سے واقف کروائیں ۔ فتاویٰ عالمگیری ج 1ص 38میں ہے ۔ لاتقرأ الحائض شیئاً من القرآن۔ واللہ اعلم بالصواب ۔ سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com