***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 982    استعمال کے زیورات کی زکوۃ
مقام : حیدرآباد ۔انڈیا,
نام : عابد
سوال:    

السلام علیکم ورحمۃ اللہ مفتی صاحب میں نے سنا تھاشریعت کا قانون ہے کہ زکوٰۃ استعمال کی چیزوں پر واجب نہیں ، جیسے مکان ‘کپڑے ‘سواری‘سیل فون وغیرہ ہیں ‘ تو پھر زیورات وغیرہ بھی خواتین کے استعمال کی چیزیں ہیں ‘ جو اُن کے لئے زینت ہے ‘تو کیا اس پر زکوٰۃ ضروری ہے ؟


............................................................................
جواب:    

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! فقہ حنفی میں حکم یہ ہے کہ سونے یاچاندی کے جوزیورات خواتین استعمال کرتی ہیں نصاب مکمل ہونے کے بعد سال گزرنے پراُن زیورات کی بھی زکوٰۃ نکالنا خواتین پرفرض ہے ۔ صحیح بخاری میں روایت ہے : وَقَالَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِیِّکُنَّ فَلَمْ یَسْتَثْنِ صَدَقَۃَ الْفَرْضِ مِنْ غَیْرِہَا ، فَجَعَلَتِ الْمَرْأَۃُ تُلْقِی خُرْصَہَا وَسِخَابَہَا ، وَلَمْ یَخُصَّ الذَّہَبَ وَالْفِضَّۃَ مِنَ الْعُرُوضِ. ترجمہ : حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:تم خواتین صدقہ وخیرات کیا کرو !اگرچہ تمہارے زیورات سے ہو،پھر حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فریضۂ زکوٰۃ کو اس سے علٰحدہ نہیں فرمایا، لہذا خاتون اپنی انگوٹھی اور ہار صدقہ کے لئے ڈالنے لگی اور حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سامان سے سونا چاندی کو خاص نہیں فرمایا۔ (صحیح البخاری‘ کتاب الزکاۃ، باب العرض فی الزکاۃ )۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com