>> BACK
بسم اللہ الرحمن الرحیم

حضرت محدث دکن رحمۃ اللہ علیہ کی حدیثی خدمات
حضرت علامہ مولانا مفتی سیدضیاء الدین نقشبندی قادری
نائب شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ وبانی ابوالحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر

 
الحمدللہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی حبیبہ سیدالانبیاء والمرسلین وعلی آلہ الطیبین الطاہرین واصحابہ الاکرمین الافضلین ومن والاہم و تبعہم باحسان اجمعین الی یوم الدین امابعد!
 

حضرت ابوالحسنات محدث دکن رحمۃ اللہ علیہ ایک بلند پایہ محدث‘ عظیم مفسر ‘ جلیل القدر فقیہ ہیں‘ آپ علوم آلیہ وعالیہ پر دسترس رکھتے ہیں‘ معقول و منقول کے جامع ہیں۔ شریعت و طریقت کے پیشوا ہیں۔ زجاجۃ المصابیح کی ترتیب و تبویب سے آپ کی محدثانہ شان ظاہر ہوتی ہے‘ ایک ایک بیان کے لئے احادیث شریفہ کے انتخاب سے آپ کی فقاہت عیاں ہوتی ہے۔ آپ نے ابواب کے آغاز میں متعلقہ آیات کریمہ تحریر فرمائے ہیں جس سے علم تفسیر میں آپ کا مرتبہ معلوم ہوتاہے۔ سورۂ یوسف کی تفسیر ’’گلدستہ طریقت‘‘ علم تفسیر کا شاہکار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی ذات میں وہ تمام کمالات رکھے جودعوت الی اللہ‘ تجدید دین اور ہدایت و رہنمائی خلق کے لئے ضروری ہوتے ہیں۔ علوم و فنون کے آفتاب ہونے کے ساتھ ساتھ آپ دور اندیش مفکر‘ صاحب رائے دانشور ہیں‘ آپ ایسے صوفی باصفا ہیں کہ آپ کے چہرہ کے دیدارپرانور اور صحبت بافیض نے ایک عالم کو واصل الی اللہ کیا‘ مخلوق کثیر نے آپ سے بھرپور استفادہ کیا‘ آپ نے تشنگان علم کو سیراب کیا‘ گم گشتگان راہ کو سیدھا راستہ دکھایا‘سالکان راہ حق کو وصال کی نعمت اور حقیقت شناسی کی دولت سے مالا مال فرماکر منزل مقصود تک پہنچادیا۔آپ اخلاق عالیہ کے پیکر حسنات کے سر چشمہ ہیں‘ اسی وجہ سے آپ کو ابوالحسنات کہا جاتا ہے‘ آپ کی دینی وا صلاحی خدمات زندگی کے تمام شعبوں سے متعلق ہیں‘ آپ ایک ہمہ گیر شخصیت ‘ جامع کمالات ہستی اور عالم گیر خوبیوں کے مالک ہیں‘ لیکن آپ کی تمام خدمات کے درمیان خدمت حدیث شریف ’’زجاجۃ المصابیح‘‘ کی تالیف نمایاں حیثیت کی حامل ہے چنانچہ آپ کی ہمہ جہت اور جامع کمالات شخصیت بطور خاص ’’محدث دکن‘‘ سے مشہور ہوئی۔

حضرت محدث دکن رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی مبارک زندگی دین اسلام کے لئے وقف فرمادی ،اللہ تعالی نے آپ کو جن جن کمالات وخوبیوں سے نوازا ، ان سب کو آپ نے دین کی خدمت میں استعمال فرمایا، خالق کائنات کی جانب سے عطاکردہ ہر قوت وطاقت کو دین کی اشاعت وتبلیغ میں خرچ کیا،آپ کی شخصیت مخلوق کے لئے مرجع ہے ، لوگ مختلف حوائج وضرویات کی تکمیل کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے، آپ ان کے ظاہر وباطن کی اصلاح فرماتے،جس شخص کی جو ضرورت ہواس کی تکمیل کرتے، آپ کی خلوت وجلوت ‘نشست وبرخواست حرکت وسکون‘ گفتار وکردار میںاسلاف کے جلوے نظر آتے جو دوسروںکے لئے کامل نمونہ ہوتے ، آپ کی عادات واطوار سے لوگ‘ مبارک سنّتیں سیکھتے ، آپ کی گفتگو میں علوم کے خزانے اور معرفت کے دریاہوتے، آپ کے دیدار ہی سے اللہ کی یاد آجاتی، آپ کامل طور پر مندرجہ ذیل حدیث پاک کے مصداق ہیں: خیر جلسائکم من یذکرکم اللہ رؤیتہ وزادفی علمکم منطقہ وذکرکم الاخرۃ عملہ ۔ عبدبن حمید والحکیم عن ابن عباس ۔ ترجمہ: تمہارے بہترین ہمنشین وہ ہیں جن کا دیدار تمہیں اللہ تعالی کی یاد دلاتاہے ، جن کی گفتگو تمہارے علم میں اضافہ کا سبب ہوتی ہے اور جن کا عمل تمہیں آخرت کی یاددلاتا ہے (کنزالعمال، کتاب الصحبۃ ، حدیث نمبر: ۲۴۷۶۴)
حضرت محدث دکن رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی مبارک زندگی کا ایک ایک لمحہ درس وتدریس‘ وعظ وارشاد‘ تصنیف وتالیف کے ذریعہ علوم قرآن وحدیث شریف کی نشر واشاعت اور دین متین کی عظیم خدمات کے لئے وقف فرمادیا،شب وروز مریدین کا تزکےۂ نفس ،تصفےۂ قلب اور تجلےۂ روح فرماتے رہے۔

آپ نے امت کی ہدایت ورہنمائی کیلئے کئی ایک گرانقدر تالیفات اور تصنیفات تحریر فرمائیں جوعقیدہ وعمل کی تیرگی کا خاتمہ کرتی ہیں گمگشتگان راہ ہدایت کی رہنمائی کرتی ہیں ،اور تشنگان علوم کو سیراب کرتی ہیں ،آپ کی کتابوں کے مطالعہ سے دل میں سکون واطمینان کی کیفیت پیدا ہوتی ہے ،ایک ایک فقرہ دل میں اثر اندازہوکر روح کو بالید گی عطا کرتاہے۔